جوابات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲
یہی معاملہ موجودہ مسلمانوں کا ہے۔ آج کے مسلمان اپنے پریس اور اپنے اسٹیج سے اپنے بارے میں بری خبریں سنتے سنتے اس کے اتنے زیادہ عادی ہو چکے ہیں کہ اب اپنے بارے میں اچھی خبریں ان کو اجنبی معلوم ہونے لگی ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ان کے بارے میں کوئی اچھی خبر بھی ہوسکتی ہے۔ موجودہ مسلمانوں کے اس مزاج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ: Good news is no news for a Muslim. کسی قوم کی سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ واقعہ پیش آنے کے وقت پہلے ہی مرحلہ میں اس کو ہوش منڈ لیڈر مل جائیں۔ جیسا کہ ۲۰۰ سال پہلے امریکہ کے ساتھ پیش آیا۔ مثلاً جیفرسن، واشنگٹن، لنکن، وغیرہ۔ بدقسمتی سے انہی ۲۰۰ سالوں میں مسلمانوں کے ساتھ کئی ناخوش گوار واقعات پیش آئے۔ اس وقت کرنے کا کام یہ تھا کہ مسلمانوں کو قرآن کے الفاظ میں عُسر میں يُسر کا راز بتایا جائے۔ مگر ساری دنیا کے مسلم لیڈر صرف عُسر کی اصطلاحوں میں لکھتے اور بولتے رہے۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی قابل ذکر مسلمان ایسا نہیں نکلا جو یُسر کی اصطلاحوں میں بات کرے۔ اس مدت میں کچھ لوگوں نے فضائل کی زبان میں کچھ بشارتیں سنائیں مگر اس قسم کی بشارتیں افیون کی گولی ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں مثبت رہنمائی۔ اس طرح لمبی مدت تک منفی ماحول میں جینے کی وجہ سے مسلمانوں کا حال وہ ہو گیا ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا۔
اس معاملہ میں مسلمانوں کی مثال ساس اور بہو کے روایتی جھگڑے جیسی ہے۔ جو ساس اپنی بہو کے بارے میں منفی ذہنیت کا شکار ہو چکی ہو اس کے سامنے اگر بہو کی خوبیاں بیان کی جائیں تو ساس کو یقین نہیں آئے گا۔ عین ممکن ہے کہ اس بات کو سن کر وہ غصہ ہو جائے ۔ البتہ اگر بہو کی برائی بیان کی جائے تو وہ خوب خوش ہوگی اور بلا ثبوت بہو کے خلاف باتوں کو مان لے گی ۔ ٹھیک یہی معاملہ برعکس طور پر بہو کے بارے میں بھی درست ہے۔
موجودہ مسلمانوں کی یہی کمزوری ہے جس کی بنا پر اُن کا حال وہ ہو گیا ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو وہ اُس کو نہ اپنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues