Al-Risala · December 2002 · page

۴ جولائی ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

کہ ج واقعات خدائی تنبیہ کا درجہ رکھتے تھے، اُن کو اس حیثیت سے پیش کرنا شروع کیا کہ وہ تمہارے دشمنوں کی سازش کی بنا پر پیش آئے ہیں۔ اس غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو واقعات اس لیے تھے کہ اُن سے مسلمانوں کے اندر اپنی اصلاح کا جذبہ پیدا ہو، اُن سے مسلمانوں کے اندر مفروضہ دشمنوں کے خلاف نفرت اور انتقام کا جذبہ ابھر آیا۔ مسلمانوں کی جو طاقت ذاتی اصلاح میں صرف ہوتی وہ مفروضہ دشمنوں سے لڑائی بھڑائی میں ضائع ہونے لگی۔ نام نہاد مسلم لیڈروں کا یہ فعل اللہ کے منصوبہ میں خلل اندازی کے ہم معنی تھا۔ اور بلاشبہ اس سے زیادہ کوئی گمراہی کی بات نہیں کہ کوئی شخص اللہ کے منصوبہ میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے۔ ایک اور پہلو سے دیکھا جائے تو یہ گمراہ لیڈر، حدیث کے الفاظ میں امانت (honesty) سے محروم نظر آئیں گے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بعد کے زمانہ میںامانت اٹھالی جائے گی ( صحیح البخاری، کتاب الفتن )۔ یہاں امانت سے مراد دیانت داری (honesty) ہے۔

موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈر و واضح طور پر اس کا مصداق ہیں۔ اُن میں سے تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہے کہ اگر آپ یہ دیکھیں کہ ۷۱۹۴ میں اُن کا اور اُن کی فیملی کا اسٹیٹس کیا تھا تو آپ پائیں گے کہ اس مدت میں اُن کا اسٹیٹس سوگنا بڑھ چکا ہے۔ ہر ایک ایسی زندگی گزار رہا ہے جس کا پچاس برس پہلے اُس نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔ ایسی حالت میں ان خودساختہ لیڈروں کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ اُن کے پاس وہ کون سا نسخہ ہے جس سے اُن کو یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اُن کے بقول، مسلمانوں کی تباہی کے باوجود ٹھیک اسی مدت میں وہ خود اور اُن کی فیملی نے زبردست ترقی حاصل کرلی۔ اُن کی یہ دو عملی بلاشبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُن کے اندر امانت (honesty) نہیں۔ اگر اُن کے اندر امانت و دیانت ہوتی تو یقیناً وہ لوگوں کو اپنی ذاتی کامیابی کے راز سے آگاہ کرتے، نہ کہ اُس کو چھپا کر مسلمانوں کو ظلم اور سازش کی خبر دیں۔ اور اس طرح مسلم ملت کا یہ حال کر دیں کہ اُس کے لیڈر تو شاندار ترقی کر رہے ہوں اور ملت محرومی کا شکار بنی رہے۔

۴ جولائی ۲۰۰۲ دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page