Al-Risala · December 2002 · page

وحید الدین

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۲

ایک خط

برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۳ جولائی ۲۰۰۲ء کو ٹیلی فون پر آپ سے گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وإنی لا أخاف علی امتی الا الائمة المضلین (الترمذی، کتاب الفتن، ابوداؤد، کتاب الفتن، الدارمی، مقدمہ، مسند احمد ۲ / ۱۲۳) یعنی میں اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ کرنے والے لیڈروں سے ڈرتا ہوں۔

میں نے اس حدیث پر غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ اس سے مراد غالباً صنعتی دور کے مسلم لیڈر ہیں۔ صنعتی دور میں ایسے تیادی مواقع کھلے ہیں جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ ان عظیم تیادتی مواقع کا یہ نتیجہ ہوگا کہ لیڈر بننے میں ایسے فائدے ملنے لگیں گے جو پہلے راجاؤں اور نوابوں کو بھی حاصل نہ تھے۔ اس مادی کشش کے نتیجہ میں استحصالی لیڈروں کی ایک نئی قسم وجود میں آئے گی۔ غالباً یہی وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں الأئمة المضلون کہا گیا ہے۔ لیڈروں کا یہ گروہ سستی مقبولیت حاصل کرنے کی خاطر یہ کرے گا کہ وہ مسلم عوام کو جذباتی خوراک دے گا۔ وہ دل پسند الفاظ بول کر عوام کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کرے گا اور پھر مادی فائدوں کی صورت میں اُس کی شاندار قیمت وصول کرے گا۔ گمراہ کرنے والے ان لیڈروں کی ایک صفت جو موجودہ زمانہ میں تجربہ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو منفی سوچ میں ڈال کر اُن کی اصلاح کو تقریباً ناممکن بنا دیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان طول امد (الحدید ۱۶) کے نتیجہ میں زوال کا شکار ہوئے۔ اُن میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوگئیں۔ اب اللہ کی سنت کے مطابق، مسلمانوں کے اوپر تنبیہات نازل ہوئیں۔ یہ تنبیہات اس لیے تھیں کہ مسلمانوں کے اندر احتساب خویش کا مادہ ابھرے اور وہ اپنی اصلاح کرکے دوبارہ اللہ کی رحمت کے مستحق بن جائیں۔ مگر عین وقت پر ساری دنیا میں گمراہ کرنے والے لیڈروں کی فوج ظاہر ہوئی۔ انہوں نے یہ کیا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2002 All issues

Printed page