افغانستان کا سبق
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۹
افغانستان کا سبق
نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا کہ مجھے ایک لاکھ افغانی جوان مل جائیں تو میں ساری دنیا کو فتح کر ڈالوں۔ مگر آج انہی افغانی جوانوں نے بالکل برعکس کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے ملک کو تباہ کیا بلکہ وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کو رسوا کرنے کا سبب بن گئے۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ موجودہ زمانہ میں افغانوں کے ذریعہ مسلم دنیا کو جس المناک صورت حال کا تجربہ پیش آیا ہے وہ پچھلے چودہ سو سال میں انہیں کبھی پیش نہیں آیا تھا۔ اس کا راز کیا ہے۔ اس المیہ کی تمام تر ذمہ داری موجودہ زمانہ کے ان نا اہل رہنماؤں پر ہے جنہوں نے افغانیوں کو جوش کی غذا تو دی مگر وہ انہیں ہوش کی خوراک نہ دے سکے۔ انہوں نے افغانیوں کو جہاد پر اکسایا مگر وہ ان کے اندر صبر کی اسپرٹ پیدا نہ کر سکے۔ جب کہ شریعت اور عقل دونوں بتاتے ہیں کہ جہاد صرف اس وقت تعمیر بنتا ہے جب کہ اس کے ساتھ صبر شامل ہو۔ صبر کے بغیر جہاد صرف تخریب ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
افغانستان کی جدید نسل جن مسلم رہنماؤں سے خاص طور پر متاثر ہوئی، ان کے نام یہ ہیں سید جمال الدین افغانی، ڈاکٹر محمد اقبال، سید قطب، آیت اللہ خمینی، ابوالاعلی مودودی، اور آخر میں ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن۔ ان تمام رہنماؤں کی مشترک کمی یہ تھی کہ وہ سب کے سب اپنے زمانہ کے منفی حالات کے ردعمل کے طور پر ابھرے۔ ان میں سے ہر ایک کی سوچ ردعمل کی نفسیات کے تحت بنی، نہ کہ مثبت فکر کے تحت۔ ان کی نفسیات کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے جہاد اور اقدام کی اہمیت کو تو سمجھا مگر وہ صبر اور مصالحت کی اہمیت کو دریافت نہ کر سکے۔ ان مسلم مفکرین نے اپنے اس ذہن کو افغان کی نئی نسلوں کی طرف انڈیل دیا۔ اسی نا اہل رہنمائی کا نتیجہ وہ بربادی ہے جو اکیسویں صدی میں حالیہ واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے آئی۔
اس انتہا پسندانہ ذہن کا نتیجہ یہ تھا کہ افغانیوں نے لڑائی اور تشدد کو خیر مطلق کا درجہ دے دیا۔ انہوں نے اس حقیقت کو نہیں جانا کہ روسی حملہ آوروں سے تو انہیں لڑنا ہے مگر جب روسی افغانستان سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues