Al-Risala · February 2002 · page 10

افغانستان کا سبق

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۰

واپس چلے جائیں تو انہیں اپنے مذہبوں سے نہیں لڑنا ہے، خواہ ان کے ایک گروپ کو یکطرفہ طور پر اپنی بندوقوں کو ناکارہ کر دینا پڑے۔ انہیں باہمی اختلاف کو امن کے دائرہ میں رکھ کر حل کرنا ہے، اختلاف کو کسی بھی حال میں تشدد کے مرحلہ تک نہیں لے جانا ہے۔ افغانی معاشرہ پر کنٹرول کے بعد اسلامائزیشن کے عمل کو تعلیم و تربیت سے شروع کرنا ہے، نہ کہ کوڑامارنے اور پھانسی دینے سے۔ انہیں فلسطین کی لڑائی کو فلسطین کے دائرہ تک محدود رکھنا ہے، اس کو ہرگز امریکہ تک نہیں پہنچانا ہے۔ انہیں پڑوسی ملکوں سے مصالحانہ رشتہ قائم کرنا ہے، نہ کہ حریفانہ اور رقیبانہ رشتہ۔ افغانی لوگوں میں ان کے علماء اور مفکرین نے جہاد کا جذبہ ابھارا تھا مگر انہیں صبر کا سبق نہیں دیا تھا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ افغانیوں نے مذکورہ قسم کی بھیا نک غلطیاں کیں ۔ اور آخر میں رسوائی اور تباہی کے سوا ان کے حصہ میں کچھ اور نہ آیا۔

ایک بار میں ایک بڑی فیکٹری میں گیا۔ اس کا انجینئر مجھے فیکٹری کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے ایک مقام پر لے گیا۔ یہاں ایک مشین تھی۔ اس کے ساتھ اس کے بیرونی حصہ میں ایک بڑا فلائنگ وہیل (flying wheel) لگا ہوا تھا۔ انجینئر نے ایک سوئچ دبائی۔ اس کے فوراً بعد فلائنگ وہیل پوری اسپیڈ کے ساتھ ایک سمت میں تیزی سے گھومنے لگا۔ پھر انجینئر نے دوسری سوئچ دبائی۔ اس کے بعد ایک سیکنڈ کے اندر فلائنگ وہیل اسی تیزی کے ساتھ برعکس سمت میں دوڑنے لگا۔ یہی انسانی زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جن کے اندر یہ دوطرفہ صلاحیت ہو وہ آگے بڑھنے کے ساتھ پیچھے ہٹنا جانتے ہوں۔ وہ جنگ کے ساتھ امن کی اہمیت کو سمجھتے ہوں۔ وہ اقدام کے ساتھ اقدام کی حدود سے واقف ہوں۔ وہ بولنے کے ساتھ چپ رہنے کو بھی کام سمجھتے ہوں۔ وہ نفرت کے ساتھ محبت کرنا بھی جانتے ہوں ۔ وہ امامت کے ساتھ اقتداء کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ خلاصہ یہ کہ وہ مجاہد ہونے کے ساتھ صابر بھی ہوں۔ ایسے ہی لوگ دنیا میں کوئی حقیقی کارنامہ انجام دیتے ہیں۔ جن لوگوں کے اندر یہ دو طرفہ صلاحیت نہ ہو وہ صرف تباہی کی مثالوں میں اضافہ کریں گے ۔ وہ حقیقی تعمیر کا کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page