قصور وار کون
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۶
الزہد کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے کہ زمین میں چار انگل جگہ بھی نہیں مگر وہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے اللہ کے لئے سجدہ کی حالت میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس دنیا میں زمین پر انسانوں کی رہائش گاہیں بھی ہیں، گندگی کے اسباب بھی ہیں۔ اس حالت میں فرشتے کس شکل میں اپنی پیشانی سجدہ کی حالت میں اللہ کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ تفصیل سے مستفید فرمائیں (ابرار حسین قریشی، دھار، مدھیہ پردیش)
جواب
اس حدیث میں ”سجدہ“ لفظی معنوں میں نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک تعبیر ہے۔ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ ساری دنیا میں اللہ کے فرشتے کثرت سے موجود ہیں اور وہ ہر لمحہ اللہ کی اطاعت میں سرگرم رہتے ہیں۔ اس حدیث کو پڑھ کر آدمی کو چاہئے کہ وہ خود اپنے بارے میں سوچے، نہ کہ فرشتوں کے بارے میں۔ وہ فرشتوں کے ”سجدہ“ سے زیادہ خود اپنے سجدے کے لئے فکر مند ہو جائے۔ سوال آپ ایک عالم دین ہیں۔ آپ کو ہر سوال کا جواب دینا چاہئے۔ اگر جواب نہیں دیتے ہیں تو یہ آپ کی غلطی ہے کہ آپ نے اس شخص کو اسلام کی باتیں نہیں بتائیں جو آپ سے سوال کر کے جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ قیامت کے دن کیا میں خدا سے عرض نہیں کروں گا کہ مجھے علم نہیں تھا اور میں نے ان سے علم مانگا۔ مگر انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ (شاہ عمران حسن، دلاور پور، مونگیر، بہار) جواب علم کے حصول کا ذریعہ سوال و جواب نہیں ہے۔ بلکہ مطالعہ ہے یا اہل علم کی صحبت میں بیٹھنا۔ جو بات ذہن میں آ جائے ، اس کو سوال بنانا اور اس پر لمبے لمبے خطوط لکھنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی اسلام کا طریقہ نہیں کہ کوئی شخص اس قسم کا ایک مضمون استفتاء کے لیے بنائے کہ الرسالہ کو پڑھنا جائز ہے یا نا جائز اور پھر مفتی صاحبان اس پر ”الجواب صحیح“ کی مہر کے ساتھ تفصیلی جواب دینا شروع کر دیں۔ اس قسم کا سوال پوچھنا بھی اسلامی روح کے خلاف ہے اور اس کا جواب دینا بھی اسلامی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues