Al-Risala · February 2002 · page 15

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۵

اپنے حقوق لینا ہے۔ کشمیر سے غیر مسلم غلبہ کو ختم کرنا ہے۔ اس کے بعد ہی ہم کو اپنے حقوق مل سکتے ہیں۔ (ایک کشمیری نوجوان، اننت ناگ)

جواب

یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ آپ کے ساتھی جو کشمیر چاہتے ہیں وہ انہیں بروقت ہی’’ آزاد کشمیر‘‘ میں مل چکا ہے۔ پھر آزاد کشمیر کے ہزاروں مسلمان کیوں وہاں سے نکل کر برطانیہ اور امریکہ میں چلے گئے اور وہاں غیر مسلم سیاسی غلبہ کے تحت پر سکون طور پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی طرح آپ لوگ جو مسلم حکومت چاہتے ہیں وہ زیادہ بڑے پیمانہ پر پاکستان میں عملاً حاصل ہو چکی ہے۔ پھر پاکستان کے لاکھوں مسلمان کیوں امریکہ اور یورپ میں جا کر غیر مسلم حکومت کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دہرے معیار کی اسی پالیسی نے اس پورے علاقہ کے مسلمانوں کو اللہ کی نظر میں بے قیمت بنا دیا ہے۔ اس قسم کی ڈبل پالیسی سے اس دنیا میں کسی کو ذلت تو مل سکتی ہے مگر اس کو کبھی عزت نہیں ملے گی۔ جہاں تک آپ کے ذاتی مسئلہ کا تعلق ہے تو اس قسم کی وقتی ناکامی موجودہ دنیا میں فطرت کے قانون کے تحت ہوتی ہے، نہ کہ کسی کے تعصب کے تحت۔ اس دنیا میں ہر ایک کے ساتھ اور ہر ملک میں ناموافق حالات پیش آتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر ہر گوند کھورانہ کو لیاقت کے باوجود دہلی یونیورسٹی میں سروس نہیں ملی۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ناموافق حالات سے مایوس نہ ہو اور بہتر مستقبل کی طرف اپنا حوصلہ مندانہ سفر جاری رکھے۔ اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ جہاں تک لڑ کر حقوق لینے کی بات ہے، وہ سراسر بے معنی ہے۔ حقائق کی اس دنیا میں کسی کو بھی لڑ کر اپنے حقوق نہیں ملتے۔ اس دنیا میں جب بھی کسی کو اس کے حقوق ملتے ہیں تو وہ پر امن تعمیری جدوجہد کے ذریعہ ملتے ہیں۔ پاکستان میں مہاجرین نے لڑ کر اپنے حقوق لینا چاہے مگر آخر میں انہیں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔

سوال

الرسالہ ماہ ستمبر ۲۰۰۱ میں ایک خط کے جواب میں آپ نے حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کتاب

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page