قصور وار کون
الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۸
جواب
مذکورہ قسم کی قرآنی آیتوں میں جو ذکر بتایا گیا ہے اس سے مراد ذکر قولی نہیں ہے بلکہ ذکر حالی ہے۔ یعنی ان کا وجود اللہ کی قدرت کو بیان کر رہا ہے۔ مثلا سورج ہم کو روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے۔ اس روشنی اور حرارت میں انسان کے لئے مفید پہلو بھی ہے اور مضر پہلو بھی۔ مگر فطرت کے مخصوص نظام کے تحت انسان کو سورج کا صرف مفید پہلو پہنچتا ہے، اس کے مضر پہلو سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ یہی معاملہ دنیا کی دوسری تمام مادی چیزوں کا ہے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، مذہب اور جدید چیلنج) جن چیزوں کو آپ گندی چیزیں کہہ رہے ہیں ان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ مثلا زمین پر جب بھی کہیں کوئی گندی چیز ظاہر ہوتی ہے، جیسے جانور کا بول و براز، تو فورا ہی وہاں لاکھوں کی تعداد میں بیکٹیریا اور کیڑے جمع ہو جاتے ہیں جوڈی کمپوز (de-compose) کر کے اس کو فضا میں تحلیل کر دیتے ہیں۔ اگر فطرت کا یہ نظام نہ ہو تو موجودہ زمین پر انسان کے لئے زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔ اس معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کی چیزوں کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ انسان کے لئے عبرت اور نصیحت بن سکیں ۔ اس دنیا کی ہر چیز، خواہ وہ پھول ہو یا کانٹا، انسان کو کوئی نہ کوئی اعلیٰ پیغام دے رہی ہے۔ مثلا درخت یہ پیغام دے رہے ہیں کہ تم یکطرفہ طور پر، دوسرے انسانوں کے لئے نفع بخش بنو۔ حتی کہ ان چیزوں میں بھی گہرا سبق ہے جن کو آپ گندی چیز سمجھ رہے ہیں۔ مثلا یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی نادانی سے گندگی کرے تو تم اس کو مزید بکھیرنے والے نہ بنو بلکہ پہلی فرصت میں اس کو صاف کرنے کی کوشش کرو۔ تمہارا کام لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالنا ہونا چاہئے، نہ کہ اس کی تشہیر کر کے لوگوں کو بدنام کرنا۔
سوال
۱۔ آپ کے مشن سے مجھے پورا اتفاق ہے۔ مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ مسلمانوں کو صالح بنانے سے پہلے غیر مسلموں کو کس طرح دعوت دی جائے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues