Al-Risala · February 2002 · page 19

قصور وار کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۲، صفحہ ۱۹

۲۔ الرساله اردو کا مطلب چند دن پہلے ایک صاحب کے ذریعہ معلوم ہوا، یعنی سب سے اچھا رسالہ۔ مجھ کو تعجب اس بات پر کہ جو شخص اپنے آپ کو اچھا کہے وہی تو سب سے زیادہ برا ہوتا ہے۔ پھر بھی آپ نے عالم ہونے کے باوجود اتنا فخر والا نام کس طرح رکھ لیا۔ اس کی وضاحت کریں۔ (شاہ عمران حسن، مونگیر، بہار)

جواب

پہلے سوال کا جواب الرسالہ میں شائع ہو چکا ہے۔ عرض یہ ہے کہ غیر مسلموں کو جو دعوت دینی ہے وہ مسلمانوں کی صالحیت کی طرف نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف ہے۔ چنانچہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ دعوت وتبلیغ کے لیے مسلمانوں کا اصلاح یافتہ ہونا شرط نہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر، الجزء الاول، صفحہ ۸۵۔

دوسرے سوال کے جواب میں عرض ہے کہ الرسالہ کا مطلب سب سے اچھا رسالہ نہیں ہے۔ رسالہ کے لئے عربی زبان میں مجلہ یا جریدہ کا لفظ آتا ہے۔ رسالہ کا معنی عربی زبان میں پیغام (message) کے ہیں۔ الرسالہ کا مطلب پیغام (The message) ہے۔ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ جن صاحب نے آپ سے مذکورہ بات کہی، ان کو بتائیے کہ اس طرح کی بات تنقید نہیں ہے بلکہ غلط الزام ہے۔ اسلام میں تنقید کرنا جائز ہے مگر غلط الزام لگانا یقینی طور پر اسلام میں جائز نہیں۔ سوال اسلام چونکہ ایک دین فطرت ہے۔ اور رب العزت نے اس کو انسان کی طبیعت کے عین مطابق بنایا ہے۔ یہ دین باقی ماندہ ادیان پر غالب ہے۔ آپ متشددانہ طرز عمل کے خلاف ہیں۔ ایسی حالت میں چوری کرنے والے یا شراب پینے والے کو شرعی سزا کیسے دی جائے گی۔ (محمد ادریس ٹاک، کشمیر، پن 192303)

جواب

اسلام بلا شبہ دین فطرت ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے ادیان خلاف فطرت تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2002 All issues

Printed page