Al-Risala · January 2002 · page 8

National Symbols that we are proud of.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۸

البتہ جہاز کی روانگی سے پہلے ٹیپ کی ہوئی آواز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم اور قرآن کی قرأت سنائی دی۔ یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ یہ ایک مسلم ملک کا جہاز ہے۔ جہاز کے اندر اس کا فلائٹ میگزین Diganto (اپریل۔ جون ۲۰۰۱) دیکھا۔ میگزین کے اندر کوئی قابل مطالعہ مضمون نہیں ملا۔ البتہ اس کے آخری صفحہ پر چند چیزوں کی تصویریں تھیں۔ مثلاً بنگلہ دیش بننے کے بعد چند نیشنل یادگاروں (Monuments) کی تصویریں ۔ بنگلہ دیش بننے کے وقت ۱۹۷۱ میں ۳۱۱۰ لاکھ سے زیادہ ہلاک ہونے والے بنگلہ دیشیوں کی یادگار، ۱۹۵۲ کے لسانی فسادات میں جو لوگ کام آئے ان کی یادگار، نواب ڈھاکہ کی قیام گاہ احسن منزل، بہمان نیشنل کیرئر، وغیرہ کی تصویریں۔ اس کے اوپر یہ لکھا ہوا تھا:

National Symbols that we are proud of.

۳ مئی کی صبح کو ڈھاکہ ایئر پورٹ پہنچا۔ بنگلہ دمان کی اس فلائٹ میں مجھے ایک چیز قابل تعریف نظر آئی اور وہ اس کی لینڈنگ تھی۔ ڈھاکہ ایئر پورٹ پر جہاز اس طرح اتر گیا کہ مجھے اس کا اندازہ بھی نہیں ہوا۔ ایئر پورٹ کے لاؤنج میں کئی لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ جو کانفرنس میں شرکت کے لئے آج ہی صبح یہاں پہنچے تھے۔ مثلاً پاکستان کے ائیر مارشل اصغر خاں، پروفیسر اے ایچ دانی، مسٹر ایچ کارلیکر، ایم جے اکبر، ڈاکٹر عالیہ امام (پاکستان)، وغیرہ۔

بنگلہ دمان سے دہلی سے ڈھاکہ تک کا سفر زیادہ خوشگوار نہ تھا۔ جہاز بھی پرانا تھا اور سروس بھی معمولی تھی ۔ لیکن جب ہم لوگ ایئر پورٹ پر پہنچے تو یہاں منظر بالکل دوسرا تھا۔ ڈھاکہ کا ایئر پورٹ شاندار نظر آیا۔ ایئر پورٹ کے باہر پارک اور سڑکیں بھی دہلی ایئر پورٹ سے اچھی تھیں ۔ ایئر پورٹ سے چل کر ہم لوگ ہوٹل ڈھاکہ شیرٹن(Dhaka Sheraton) پہنچے۔ یہاں میرا قیام روم نمبر ۱۰۱۹ میں تھا۔

۳ مئی کی شام کو کانفرنس کے شرکاء ڈھاکہ ساور (Dhaka Savar) لے جائے گئے۔ یہ مقام ڈھاکہ سے تقریباً ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues

Printed page