National Symbols that we are proud of.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۲، صفحہ ۹
جس کو نیشنل میموریل کہا جاتا ہے ۔ یہ بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی (۱۹۷۱ء) کی یادگار ہے جو پاکستان کے خلاف لڑی گئی تھی ۔ یعنی وہ واقعہ جب کہ اقبال اور جناح کی ایک قوم دو مختلف قوم بن کر ایک دوسرے کے خلاف خونیں جنگ میں شریک ہوگئی۔
ہمیں بتایا گیا کہ اس جنگ میں ۳ ملین بنگالی مارے گئے اور ۲۰ ہزار ہندوستانی فوجی ہلاک ہوئے۔ اس واقعہ کی یادگار میں یہ میموریل تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ میموریل ایک سو آٹھ ایکڑ رقبہ میں واقع ہے۔ بنگلہ دیش کی اس جنگ آزادی میں ہندوستان کو اپنی شمولیت کی یہ قیمت دینی پڑی کہ ملک میں مہنگائی بے پناہ حد تک بڑھ گئی اور مہنگائی میں اضافہ کے علاوہ دوسرے بے شمار مسائل پیدا ہوئے جس کا بظاہر کوئی خاتمہ نظر نہیں آتا۔
یہ نیشنل یادگار بنگلہ دیش کی سب سے اہم جگہ سمجھی جاتی ہے۔ باہر کی بڑی شخصیتیں (dignitaries) جب بنگلہ دیش آتی ہیں تو وہ یہاں آکر اس شہیـدی یادگار پر پھول چڑھاتی ہیں۔ یہ میموریل ایک وسیع رقبہ میں نہایت خوبصورت انداز میں بنایا گیا ہے۔ اس کو بنگلہ دیش میں وہی مقام حاصل ہے جو ہندوستان میں بننے والی دہلی کی گاندھی سمادھی کو حاصل ہے۔ ۳۱ مئی کی شام کو ڈھا کہ کے ہندوستانی ہائی کمیشن کی طرف سے کانفرنس کے شرکاء کو ریسپشن دیا گیا۔ کانفرنس میں شریک ہونے والے تمام لوگ ہائی کمشنر کی رہائش گاہ آئے اور دیر تک کھانے پینے کے ساتھ ساتھ آپس میں باتیں کرتے رہے۔
ایک بوڑھی خاتون آکر ہمارے پاس بیٹھ گئیں ۔ ان کے حلیہ سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ کوئی مقامی خاتون ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ بنگالی ہیں۔ خاتون نے کسی قدر بلند آواز سے جواب دیا:
Oh, Yes!
ان کے کہنے کے انداز میں فخر کا جذبہ نمایاں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگالی خواہ وہ بنگلہ دیشی ہو یا ہندوستانی بنگال سے تعلق رکھتا ہو، وہ اپنی زبان اور کلچر کے بارے میں بہت زیادہ نازاں (proud)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2002 All issues