Al-Risala · January 2003 · page

Technology is most wanted by spirituality.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لیے سوامیوں کے پاس ہر وقت موبائل ٹیلی فون موجود رہتا ہے۔ اکثر کے پاس انٹرنیشنل رومنگ ہوتا ہے۔ دور دور کے علاقوں میں پھیلے ہوئے ان کے شاگرد اپنے مسائل کے لئے اُن سے رجوع کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً بیماری، تجارتی گھاٹا، حادثہ وغیرہ۔ سوامی لوگ موبائل اپنے کان میں لگائے ہوئے اپنے شاگردوں کو ان کے سوالات کا جواب دیتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اس نے لکھا تھا کہ ٹکنالوجی آج روحانیت کی ایک شدید ضرورت ہے:

Technology is most wanted by spirituality.

ہماری گاڑی چلتے ہوئے ایک ریستوران میں داخل ہوئی۔ یہ ایک وسیع اور خوبصورت ریستوران تھا۔ اس کے وسیع احاطہ میں کثرت سے گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ کھتولی کے قریب واقع اس ریستوران کا نام چیتل گرائینڈ (Cheetal Grand) ہے۔ اس ریستوران کا مالک ایک مسلمان ہے۔ مجھے اس ریستوران کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا۔ چنانچہ میں نے لوگوں کو بتایا کہ اس مسلمان کے اندر دوسروں کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ وہ اس علاقہ میں گویا ایک ٹرنڈ سٹّر (trend setter) بن گیا ہے۔

دہلی سے نینی تال جانے والی سڑک پر بیس سال پہلے مسافروں کے لیے بہت معمولی قسم کے ہوٹل ہوتے تھے جس کو ڈھابا کہا جاتا تھا۔ چیتل گرائینڈ کے مالک نے پہلی بار مغربی انداز پر یہاں مسافروں کی سہولت کے لیے وہ چیز بنائی جو مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں پہلے سے قائم تھی۔ بیس سال پہلے اس قسم کا جدید ریستوران صرف یہی ایک تھا۔ لوگ دہلی سے یہ سوچ کر چلتے تھے کہ راستہ میں انہیں چیتل گرائینڈ میں ٹھہرنا ہے اور وہاں کھانا پینا ہے اور ضروریات سے فارغ ہونا ہے۔ اس کا اثر دوسروں پر پڑا۔ ہر ایک نے اپنے ڈھابہ کو ماڈرنائز کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ راستہ میں میں نے کئی جگہ اسی انداز کے دوسرے ریستوران دیکھے۔ اگر چہ اپنی کوالٹی کے اعتبار سے چیتل گرائینڈ اب بھی اس راستہ میں غالباً نمبر ایک ہے۔

ہماری گاڑی اندر پال چلا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں چالیس سال سے گاڑی چلا رہا

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page