Al-Risala · January 2003 · page

Speed thrills but kills.

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۳

ہوں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی گاڑی کا کبھی ایکسیڈنٹ ہوا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں رفتار کی حد (speed limit) کے اندر اپنی گاڑی چلاتا ہوں۔ کسی کا دباؤ ہو تب بھی میں اپنی گاڑی کو تیز نہیں چلاتا۔ مثلاً کوئی پیچھے سے ہارن دے رہا ہو یا بیٹھی ہوئی سواری تیز دوڑانے کو کہے تب بھی میں حد کے اندر رہ کر اپنی گاڑی کو چلاتا ہوں۔ میں نے سوچا کہ یہی قومی پالیسی کا معاملہ بھی ہے۔ ہمیں اپنی قومی پالیسی خود اپنے مثبت فیصلہ کے تحت چلانا چاہئے، نہ کہ دوسروں کے ردّ عمل کے طور پر۔ مثلاً فریق ثانی اگر مشتعل کرے تب بھی ہمیں مشتعل ہوئے بغیر اپنا عمل جاری رکھنا چاہئے۔

اس گفتگو کے دوران ہمارے ایک ساتھی خالد انصاری نے ایک انگریزی مقولہ سنایا — تیز رفتاری بہت اچھی لگتی ہے مگر وہ ہلاک کرتی ہے:

Speed thrills but kills.

راستہ میں کئی جگہ گاڑیاں الٹی ہوئی پڑی تھیں۔ اس قسم کے حادثے ان سڑکوں پر اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ ان حادثات کے اسباب زیادہ تر دو ہوتے ہیں — شراب پی کر گاڑی چلانا یا غیر ذمہ دارانہ طور پر گاڑی دوڑانا۔

اس موقع پر ہمارے ایک ساتھی نے بتایا کہ ان کے گھر کی ایک خاتون ڈرائیونگ لائسنس لینا چاہتی تھیں ۔ وہ دہلی میں ٹسٹ دینے کے لیے گئیں۔ ان کے بیچ میں ۱۰ آدمی تھے۔ ٹسٹ کے بعد ۸ آدمیوں کو ڈرائیونگ لائسنس دے دیا گیا۔ خاتون نے کہا کہ میں نے ان لوگوں سے اچھا چلایا تھا پھر تم نے مجھ کو لائسنس کیوں نہیں دیا۔ جواب دینے والے نے جواب دیا کہ ہمارا آج کا کوٹہ ۸ لائسنس کا تھا وہ پورا ہو گیا۔ آپ کل آئیں تو ہم پہلے نمبر پر آپ کو لائسنس دے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا میں، خاص طور پر دہلی میں، اتنے زیادہ ایکسیڈنٹ ہونے کا سبب یہ ہے کہ لوگوں کو کوٹہ سسٹم‘‘ کی بنیاد پر لائسنس دئے جاتے ہیں، نہ کہ واقعی معنوں میں ٹریننگ کی بنیاد پر۔

اس طرح کی باتوں میں راستہ طے ہوتا رہا، یہاں تک کہ چھ گھنٹہ کا سفر کرنے کے بعد ہم لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2003 All issues

Printed page