Conversions—Issues and Need for legislation
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
موقع ملا۔ اسلام کی امتیازی حیثیت کو بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا کہ: Islam was the culmination of the evolution of religion. میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ اسلام ارتقائی مذہب نہیں ہے بلکہ وہ مذہب کا محفوظ ایڈیشن ہے۔ قرآن میں کئی مقامات پر پیغمبر اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم پچھلے نبیوں کی پیروی کرو۔ مثلاً فبهداهم اقتده ۔ اگر اسلام مذہب کی ارتقائی صورت ہو تو پچھلے پیغمبروں کی پیروی کا حکم ایک ناقابل فہم حکم بن جائے گا۔
اسی طرح اسلام کی خصوصیت بتاتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر توگڑیا سے کہا کہ محمد ﷺ کا ظہور اس وقت ہوا جب کہ زمانہ میں مکمل تبدیلی آ گئی تھی اور انسانی ذہن اتنا ترقی کر چکا تھا کہ خالص تعقل کی سطح پر وہ خدا کی معرفت حاصل کر سکے:
Human intelligence had developed sufficiently enough to recognize God through reason. میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطہ آمیز بات ہے۔ اس لئے کہ ساتویں صدی عیسوی میں انسانی علم ابھی روایتی دور میں تھا۔ انسانی علم کا روایتی دور سے نکل کر سائنسی دور میں پہنچنا مسلمہ طور پر بہت بعد کو ہوا۔ اب اس معیار کے مطابق، کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اسلام دور قدیم کا مذہب ہے، وہ دور جدید کا مذہب نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گفتگو کے دوران ڈاکٹر توگڑیا نے کہا کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے اور مسلم تاریخ خون سے لکھی گئی ہے۔ یہ سن کر مذکورہ مسلمان نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ اس معاملہ میں دوسرے مذاہب کی تاریخ کو جانتے ہیں۔ اُن کی تاریخ بھی اگر زیادہ نہیں تو اس سے کم خونی نہیں۔ ان کے الفاظ یہ تھے:
I countered by asking if he was aware of the history of other religions. They too were not less bloody if not more. یہ جواب کا وہ طریقہ ہے جس کو الزامی جواب کہا جاتا ہے۔ وہ اُس آدمی کے لیے مفید نہیں جو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues