Al-Risala · March 2003 · page

Conversions—Issues and Need for legislation

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

کے مسلمان لمبی مدت سے بڑی بڑی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ مگر مطلوب نتیجہ ابھی تک نہیں نکلا۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ پورے معاملے پر از سرِ نو غور کیا جائے۔ وہ کام کیا جائے جس کو ری اسسمنٹ (re-assessment) کہا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر اگر سلطان ٹیپو کی شہادت (۱۷۹۹) سے شمار کیا جائے تو نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے مقامات کے مسلمان تقریباً تین سو سال سے مسلح جہاد کر رہے ہیں۔ مگر نتیجہ یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے۔ اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ مسلح جہاد کو یک طرفہ طور پر اور مکمل طور پر بند کر دیا جائے اور ساری کوشش پر امن عمل میں لگادی جائے۔

۹ دسمبر کی صبح ہوئی تو کئی ساتھی بالکل سویرے ہی مدینہ ایجوکیشن سینٹر آگئے۔ مثلاً عبدالغفار صاحب، عبدالرؤف صاحب، معین بھائی، وغیرہ۔ مدینہ ایجوکیشن سینٹر کے اوپر کی چھت پر باجماعت نماز کا انتظام ہے۔ یہاں ہم لوگوں نے دوسرے طلبہ کے ساتھ باجماعت فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے کہا کہ پنج وقتہ نماز اصلًا اللہ کی عبادت ہے مگر اسی کے ساتھ وہ کتابِ موقوت ہے۔ نماز کا یہ نظام ہمارے اوقاتِ کار کو منظم کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے کام کو پانچ وقتوں میں تقسیم کریں اور ہر کام ایک نماز اور دوسری نماز کے درمیان انجام دیں تو یہ بہت مفید ہوگا۔ اس طرح پانچ وقت کی نماز ہمارے لیے ٹائم مینجمنٹ کا ایک فطری ذریعہ بن جائے گی۔

ایک مسلم نوجوان نے اپنی ڈائری پیش کی اور کچھ نصیحت لکھنے کے لیے کہا۔ میں نے ڈائری میں یہ الفاظ لکھ دیے کہ زندگی کا ہر لمحہ ایک تجربہ ہے اور ہر تجربہ ذہنی ارتقاء کا ذریعہ: Every moment is an experience and every experience is a source of intellectual development. ایک صاحب نے اپنی روداد بتائی۔ اس سے موجودہ زمانہ کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرین کے ایک سفر میں ان کی ملاقات ہندو انتہا پسند لیڈر ڈاکٹر پروین توگڑیا سے ہوئی۔ اس طرح انہیں ڈاکٹر توگڑیا سے تقریباً تین گھنٹہ بات چیت کرنے کا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page