Conversions—Issues and Need for legislation
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
وغیر مسلم دونوں کو مسئلہ یہی ہے:
Dawah is de-conditioning, both of Muslims as well as of non-Muslims. حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اُس کے ماں باپ اُس کو یہودی اور نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں (كل مولود يولد على الفطرة فابواه يهودانه اوينصرانه او يمجسانه) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عام انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر سچائی سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے بارہ میں قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ بعد کے زمانہ میں وہ، دوسری امتوں کی طرح خود ساختہ دین کو دین سمجھ کر اُس پر قائم ہو جائیں گے۔ اس اعتبار سے دونوں ہی گروہوں کا کیس اپنے اپنے لحاظ سے کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ اور دونوں ہی کے سلسلہ میں یہ کرنا ہے کہ اُن کی کنڈیشننگ کو ختم کر کے اُنہیں اپنی اصل حالت کی طرف لوٹایا جائے۔ یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی اُن میں سے چند نام یہ ہیں: مولانا فیروز عادل قاسمی صاحب، حافظ وقاری اعجاز عادل صاحب ، مفتی احتشام صاحب ، خالد بھائی ، حمزہ بھائی ، انور خاں صاحب ، مفتی اشرف علی قاسمی، وغیرہ۔
ایک بار میں ایک صاحب کے ساتھ ان کی کار میں سفر کر رہا تھا۔ وہ ایک کمپنی میں مینیجر ہیں۔ ان کی کار میں اسٹیریو سسٹم لگا ہوا تھا۔ وہ گاڑی چلاتے ہوئے اس سے میوزک سنتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ ایک کسٹمر سے ایک بڑے سودے کے لئے سنجیدہ گفتگو میں مشغول ہوں اور عین اسی وقت کوئی شخص آپ کی میز پر ایک ٹیپ ریکارڈر لا کر رکھ دے اور پوری آواز کے ساتھ اس پر میوزک بجانے لگے۔ ایسے وقت میں آپ کا احساس کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا اس کو میں ایک غیر مطلوب مداخلت (unwanted distraction) سمجھوں گا اور فوراً اس کو بند کر دوں گا۔ میں نے کہا کہ گاڑی چلاتے ہوئے جب آپ اپنا میوزک ریکارڈر بجاتے ہیں تو یہ اس سے بھی زیادہ بڑی غیر مطلوب مداخلت ہوتی ہے۔ اس قسم کی چیز آپ کے اندر تفکیری عمل (thinking process) کو رخ سے بے رخ کر دیتی ہے۔ گاڑی چلاتے ہوئے آپ کا اعلیٰ تفکیری عمل
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues