Conversions—Issues and Need for legislation
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
کہ غیر متحرک مادہ موٹر کار کی صورت میں متحرک مادہ بن کر سڑک پر دوڑنے لگے۔ اس طرح کی سیکڑوں باتیں آپ سوچ سکتے ہیں۔ مگر آپ ذہنی ترقی کے اس عظیم امکان سے محروم ہو کر کچھ پیشہ وروں کے میوزک اور سانگ میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
ایک بار میں لوگوں کے ساتھ کھانے کے دستر خوان پر تھا۔ میں نے چمچہ مانگا۔ دوسرے لوگوں نے ہاتھ سے کھانا کھایا اور میں نے چمچے سے۔ یہ دیکھ کر ایک صاحب بولے: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ یورپ اور امریکہ کا سفر کرتے کرتے مغربی کلچر سے مرعوب ہو گئے ہیں۔ اس لئے آپ چمچے سے کھانا پسند کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس قسم کی چیز کو اسلام میں بُرا گمان کہا گیا ہے۔ برا گمان اسلام میں سخت گناہ ہے (الحجرات ۱۲)
میں نے کہا کہ یہ میرا پیدائشی مزاج ہے۔ چنانچہ جب میں گاؤں میں رہتا تھا اور یورپ اور امریکہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا تب بھی میں چمچے سے کھانا پسند کرتا تھا۔ ایک اور موقع پر ایک بزرگ نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ انگریزوں کی اور لارڈ میکالے کی تعریف کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ تبصرہ تاویل القول بما لا يرضى به قائله کا مصداق ہے۔ میں نے کہا کہ میرے بارے میں جو بات آپ نے سنی وہ دراصل بخاری کی ایک روایت (ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر) کی تشریح تھی۔ اگر آپ خالی الذہن ہو کر اُس پر غور کریں تو اس میں آپ کو کوئی قابل اعتراض بات نظر نہ آئے گی۔
انگریزی زبان کے ایک مسلم ہفت روزہ (۱۶ دسمبر ۲۰۰۲) میں حیدر آباد کے مسلمانوں کے بارہ میں ایک رپورٹ دیکھی۔ اُس کو لکھنے والے ایک حیدر آبادی مسلمان تھے۔ اُنہوں نے اپنی پوری رپورٹ منفی انداز میں لکھی تھی۔ اُس کی چند سطریں یہ تھیں:
Andhra Pradesh may be progressing under the able leadership of chief minister Chandrababu Naidu, but the state of Muslims there is as bad as in other parts of the country.... At the time of
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues