کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
قابلِ بقا ۔ برصغیر ہند میں احتجاجی صحافت کی لمبی تاریخ ہے — ہمدرد، کامریڈ، الہلال، ڈان، قائد، ندائے ملت، وغیرہ۔ یہ سب احتجاجی صحافت کے علم بردار تھے۔ مگر یہ تمام صحافتی تحریکیں تھوڑے دن تک زور و شور دکھا کر فضا میں تحلیل ہو گئیں۔
ماہنامہ مسلم انڈیا ۲۰ سال جاری رہ کر دسمبر ۲۰۰۲ میں ختم ہو گیا۔ اُس کے بانی اور ایڈیٹر نے دسمبر ۲۰۰۲ میں اپنا الوداعی ایڈیٹوریل ان الفاظ میں شروع کیا:
As I pen my last editorial, my mind goes back to the spade work اس ایڈیٹوریل میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسلم انڈیا نے اپنا مقصد پورا کر لیا۔ مگر خود یہی ایڈیٹوریل یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اُس کا مقصد تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ اس ایڈیٹوریل کی یہ سطریں پڑھیے:
The Muslim India, thus became the record of the community's ان مطبوعہ الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم انڈیا کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو عظمت اور مساوات اور انصاف ملے۔ اسی کے ساتھ وہ ہندو کٹر واد کے خطرے سے بچ سکیں ۔ مگر جیسا کہ ہر آدمی جانتا ہے، یہ مقاصد کسی بھی درجہ میں پورے نہیں ہوئے ۔ اس اعتبار سے بیس سال پہلے مسلمانوں کی جو حالت تھی وہی آج بھی برقرار ہے۔ ایسی حالت میں مسلم انڈیا کے بانی اور ایڈیٹر کو یہ اعلان کرنا چاہئے تھا کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس لیے اب ہم اس میدان سے ہٹ رہے ہیں۔ اس کے برعکس اُنہوں نے یہ دعویٰ کر دیا کہ ہمارا مقصد پورا ہو چکا ہے اس لیے اب ہم اپنا آخری ایڈیٹوریل لکھ رہے ہیں۔
۹ دسمبر کو جب کہ میں مدینہ ایجوکیشن سینٹر کے گیسٹ ہاؤس میں مقیم تھا، دو تعلیم یافتہ مسلمان
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues