Al-Risala · March 2003 · page

کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

ہے کہ کس طرح یہ ممکن ہے کہ ماضی کے کھنڈر پر مستقبل کا نیا محل تعمیر کیا جائے۔ حیدر آباد کے اس سفر میں مجھے اس تعلیمی ادارہ کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ اُس کی مرکزی بلڈنگ کے اوپر قائم شدہ مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے کی توفیق بھی خدا کے فضل سے حاصل ہوئی۔

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اخباری رپورٹر عام طور پر غلط رپورٹ کرتے ہیں۔ مگر اُن کی غلط رپورٹنگ کسی کے خلاف دشمنی کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ یہی اُن کا مزاج ہے۔ اُن لوگوں پر فارسی کا یہ شعر صادق آتا ہے:

نیش عقرب نہ از پئے کین است مقتضائے طبیعتش این است اصل یہ ہے کہ اخبار کے لیے سنسنی خیز خبریں مفید ہیں۔ اس لیے خبروں کو اپنے مفید مطلب بنانے کے لیے وہ اُس کو سنسنی خیزی کا رنگ دے دیتے ہیں۔ مثلاً ایک اُردو اخبار نے میری ایک پریس کانفرنس کی رپورٹ دیتے ہوئے یہ لکھا کہ ـــ مولا نا وحید الدین خاں نے دعویٰ کیا کہ بحیثیت ملت ہندوستانی مسلمانوں نے بابری مسجد کے مسئلہ سے دستبرداری حاصل کر لی ہے (راشٹریہ سہارا، ۲۳ دسمبر ۲۰۰۲)۔ یہ میری بات کی صحیح ترجمانی نہیں۔ میں جو بات کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کے فوراً بعد (دسمبر ۱۹۹۲۔ جنوری ۱۹۹۳) تو مسلمانوں نے کچھ جوش دکھایا مگر جلد ہی بعد وہ اپنے ذاتی کاموں میں مصروف ہو گئے۔ خود ساختہ مسلم رہنماؤں نے یہ کال دی کہ ہر سال مسلمان ۶ دسمبر کو یوم بابری مسجد منائیں ۔ مگر ۱۹۹۳ سے لے کر ۲۰۰۲ تک کسی بھی سال ہندوستانی مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا۔ اب بابری مسجد کا ایشو صرف اُن افراد کا ایشو ہے جو اسی قسم کی چیزوں کے نام پر سطحی لیڈری کرتے ہیں ۔ جہاں تک مسلم عوام کا معاملہ ہے، وہ عملاً اس سے بے تعلق ہو چکے ہیں ۔ میں نے اپنے بیان میں مسلمانوں کی عملی طور پر بے تعلقی کی بات کہی تھی ، نہ کہ اصولی طور پر مسجد سے دستبرداری کی بات۔ ایک صاحب نے نئی دہلی کے انگریزی ماہنامہ مسلم انڈیا کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ مجھے کبھی بھی مسلم انڈیا سے دلچسپی نہ تھی۔ میں صرف اُس کام کو کام سمجھتا ہوں جو قابل بقا (sustainable) ہو ۔ مسلم انڈیا مسلمانوں کی احتجاجی سیاست کا نمائندہ تھا اور احتجاجی سیاست میرے نزدیک نہ مفید ہے اور نہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page