کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
مقابلہ میں تقریباً سوگنا زیادہ۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کو شکر کے جذبہ کے تحت سجدہ میں گر جانا چاہیے ۔ تا کہ آپ کو اور بھی زیادہ خدا کی نعمتیں حاصل ہوں (لئن شکرتم لأزید نكم)۔ میں نے کہا کہ میں غالباً ۱۹۴۳ میں پہلی بار حیدر آباد آیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں یہاں کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ سڑک پر پولیس کے لوگ آ گئے ہیں اور سیٹیاں بجارہے ہیں۔ سیٹی کی آواز سن کر لوگ تیزی سے سڑک کے دونوں طرف کی گلیوں میں چلے گئے۔ مجھے بھی ایسا ہی کرنا پڑا۔ جب سڑک پوری طرح صاف ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ تین کاریں آئیں اور تیزی سے گزرتی ہوئی آگے چلی گئیں۔ معلوم ہوا کہ یہ سابق حیدر آباد کے نواب کی سواری تھی۔ وہ روزانہ اسی طرح اپنی رہائش گاہ سے کسی مقام پر جاتے تھے اور ہر دن سڑک اُن کے لئے خالی کر دی جاتی تھی۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۳ میں حیدر آباد میں صرف چند کاریں تھیں اور یہ کاریں صرف نواب یا کسی بڑے جاگیر دار کے پاس تھیں۔ آج یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کے پاس ہزاروں کی تعداد میں کاریں موجود ہیں۔ لوگ پہلے سے زیادہ اچھے مکانات میں رہتے ہیں۔ مسجد اور مدرسے اور اسلامی ادارے پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ آج امام اور مدرس کے جیب میں بھی موبائل ٹیلی فون ہوتا ہے جو گذشتہ دور میں نواب کے پاس بھی نہیں ہوتا تھا۔ آج کے مسلمان پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ دھوم کے ساتھ شادی وغیرہ کی تقریب مناتے ہیں۔ آج پہلے سے زیادہ تعداد میں یہاں کے لوگ حج کے لیے جاتے ہیں، وغیرہ۔
ایسی حالت میں حیدر آباد کے مسلمانوں کے لیے شکایت اور احتجاج کی بولی بولنا گناہ ہے۔ اُن پر فرض ہے کہ وہ یا تو شکر کی بولی بولیں یا چپ رہیں ۔ (من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت)۔
تقریر کے بعد کچھ سوالات کیے گئے جن کا میں نے مختصر جواب دیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ غیر مسلموں میں دعوت کی بات کرتے ہیں۔ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کس طرح کیا جائے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا عمل گہری خیر خواہی کے جذبہ کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور جہاں گہری خیر خواہی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues