Al-Risala · March 2003 · page

کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

ہو وہاں یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہم یہ کام کیسے کریں۔

میں نے کہا کہ کیا کوئی ماں کسی سے پوچھنے جائے گی کہ میں اپنے بیٹے کی خدمت کس طرح کروں۔ کیا کوئی باپ کسی سے پوچھنے جائے گا کہ میں اپنی اولاد کے ساتھ پدری حقوق کس طرح ادا کروں۔ ماں اور باپ خود اپنی قلبی محبت کے تحت یہ جان لیتے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ اسی طرح جو لوگ انسان کی محبت میں تڑپیں، جن کے دل میں یہ درد ہو کہ اُن کے آس پاس کے لوگ جہنم میں نہ جائیں، اُنہیں کسی سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ وہ لوگوں کی اصلاح و دعوت کا کام کس طرح کریں۔ اُن کا داخلی جذبہ ہی اُنہیں یہ بتانے کے لیے کافی ہوگا کہ اُنہیں اپنی دعوتی ذمہ داری کو کس طرح ادا کرنا چاہئے۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اکرام مسلم کو جانتے ہیں، اکرام انسان کی اہمیت سے شعوری طور پر وہ باخبر ہی نہیں۔ ایک صاحب کی عیادت کرنے کا موقع ملا۔ وہ لمبی بیماری سے کافی پریشان ہو چکے تھے۔ میں نے اُن کا حال پوچھا تو انہوں نے گانے کے انداز میں کہا: تڑپنا اور مرجانا۔ میں نے سوچا کہ تڑپنا اور مرجانا یہی ہر آدمی کا کیس ہے۔ ہر آدمی تڑپ کر ہی مرتا ہے۔ لوگ اپنی تڑپ کو جانتے ہیں مگر دوسروں کی تڑپ سے وہ واقف نہیں۔ اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں میں ہی ہوں جس کو تڑپ کا تجربہ ہورہا ہے۔ حالانکہ خود خالق فطرت نے تڑپ کو ہر ایک کا مقدر بنا دیا ہے (لقد خلقنا الانسان فی کبد)۔

۱۰ دسمبر کو تقریباً آدھا دن یہاں کی ایک کورٹ میںگذرا۔ ایک کیس کے سلسلہ میں مجھے وہاں جانا پڑا تھا۔ اس سے پہلے بھی چند بار مجھے بادل ناخواستہ کورٹ میں جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ اپنے علم اور تجربہ کی بنا پر میں نے پایا ہے کہ موجودہ عدالتیں قانونی پہلوانی کے ادارے ہیں۔ ان عدالتوں میں حقائق کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ساری بحث فنی بنیاد (technical ground) پر ہوتی ہے۔ میرے تجربہ کے مطابق ، اس نظام میں جج ایک بے اختیار مشین کی طرح کام کرتا ہے۔ وہ مجبور ہے کہ وکیلوں کے نکالے ہوئے فنی نکتوں پر فیصلہ دے۔ چنانچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فیصلہ میں فنی نکتہ کی رعایت تو ضرور

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page