کار دنیا کسے تمام نہ کرد ہر کہ آمد عمارت نو ساخت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
ہوتی ہے مگر اصل حقیقت سے اُس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
۱۰ دسمبر کے اس تجربہ کے بعد میں نے سوچا کہ آخر میرے جیسے بے ضرر انسان کے ساتھ ایسے حالات کیوں پیش آئے کہ اُس کو مجبورانہ طور پر عدالت میں جانا پڑا۔ اس پر غور کرتے ہوئے مجھے حضرت علیؓ کا قول یاد آیا کہ: الخیر فیما وقع۔ اور پھر میرے دل نے کہا کہ شاید میرے لیے یہ مقدر تھا کہ میرے ساتھ وہ تجربہ گزرے جس کو حضرت مسیح نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: ابن آدم کو عدالت میں لے جاتے ہیں۔
۱۰ دسمبر کو عدالت کے کمرہ میں جناب مجاہد الدین احمد ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میری کتابیں پڑھ چکے ہیں اور ہمارے مشن سے پوری طرح اتفاق رکھتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے انگریزی میں چھپا ہوا ایک آرٹیکل دیا جو ستیہ سائی بابا کے بارہ میں تھا۔ اُس میں بتایا گیا تھا کہ ستیہ سائی بابا کا طریقہ بے کُچھ آدمی کو سب کچھ دے دیتا ہے۔ اس کا عنوان یہ تھا: Sai Baba and theory of Everything اُؔس میں بتایا گیا تھا کہ خدا نے ہم کو دماغ کی صورت میں ایک سپر کمپیوٹر دیا ہے۔ مگر ہم اس کو دس فیصد سے بھی کم استعمال کر پاتے ہیں۔ سادھنا کے روحانی طریقہ کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ ہم اپنے مائنڈ کو زیادہ بہتر بنا سکیں تاکہ ہم اپنے دماغ کے غیر استعمال شدہ طاقت کو بڑھا سکیں: This places a ceiling on the proportion in use of the God-given super computer—our brain— we use less than ten percent of its capacity. By spiritual discipline (Sadhana)
it is possible to reprogramme our minds to increase the unused capacity of our brain. میں نے کہا کہ یہ ایک بے دلیل دعویٰ ہے۔ سائی بابا اور اُن کے ہزاروں معتقدین نے سادھنا کے اس طریقہ کو بھر پور استعمال کیا مگر وہ دماغی ترقی کے اعلیٰ درجہ تک نہ پہنچ سکے۔ سائی بابا سمیت اُن کے کسی معتقد نے کوئی سائنٹفک ڈسکوری نہیں کی اور نہ کوئی اعلیٰ درجہ کی کتاب لکھی۔ پھر میں نے اپنا ذاتی واقعہ بیان کیا۔ ایک بار سائی بابا کے ایک معتقد مجھ کو سائی بابا کے آشرم میں لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues