Al-Risala · March 2003 · page

What is the future of my mission

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

تو آپ اپنی قوم کے اندر ہیرو بن جاتے ہیں اور اگر آپ خود اپنی قوم کے خلاف بولیں تو آپ اپنی قوم میں زیرو ہو جائیں گے۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے گفتگو ہوئی۔ میں نے انہیں انگریزی میں چھپا ہوا ایک انویٹیشن دکھایا۔ اس میں مجھے تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ یہ دعوت نامہ دی انلائٹمنٹ فاؤنڈیشن کی طرف سے تھا۔ نئی دہلی میں اُس کا کنٹیکٹ نمبر یہ )The Enlightenment Foundation( ہے: (26916696:.Tel)۔

اس میٹنگ کا موضوع یہ تھا کہ میں کون ہوں (Who Am I) میں نے کہا کہ اس طرح کے ادارے بڑی تعداد میں تقریباً ہر شہر میں قائم ہیں۔ اس میں شرکت کرنے والوں کو پوری آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے نقطۂ نظر سے زیر بحث موضوع پر بولے۔ اور اپنے علم کے مطابق، سوال کا جواب دے۔ اس طرح گویا ہر شہر میں ایک قسم کا دعوتی میدان کھلا ہوا ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمان وہاں جا کر آزادانہ طور پر اپنی بات پیش کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اُن کا انداز خالص علمی ہو۔ مناظرہ کا انداز، سیاسی پروپیگنڈے کا انداز یا قومی وکالت کا انداز نہ ہو۔ اس امکان کو اگر استعمال کیا جائے تو ہر شہر میں خاموش انداز میں دعوت کا کام شروع ہو جائے گا۔ مگر موجودہ مسلمانوں میں چونکہ دعوتی جذبہ نہیں اس لیے انہوں نے نہ اس جدید امکان کو جانا اور نہ اُس کو استعمال کیا۔

کچھ مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں مومن کی تصویر ان الفاظ میں دی گئی ہے: ولم يخش الا الله (اُس کو اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہیں ہوتا)۔ اس کے مقابلہ میں منافق کی تعریف یہ کی گئی ہے: يحسبون كل صيحة عليهم (وہ ہر چیخ کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں)۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو دیکھیے یا اُن کی تقریروں اور تحریروں کا جائزہ لیجیے تو تقریباً سارے ہی مسلمان اس کا مصداق نظر آئیں گے۔ آج تقریباً ساری دنیا کے مسلمان ایک ہی مشترک بولی بول رہے ہیں۔ وہ دنیا کی تمام قوموں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ دوسری قوموں کی سرگرمیوں کو بتانے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page