What is the future of my mission
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
کے لیے اُن کے پاس ایک ہی مشترک لفظ ہے اور وہ ہے سازش، مواہرہ، کانسپریسی (conspiracy)۔ اُن کو نظر آتا ہے کہ دنیا کے تمام غیر مسلم لوگ صرف ایک ہی کام کر رہے ہیں اور وہ مسلمانوں کے خلاف سازش ہے۔
موجودہ مسلم دنیا میں شاید میں امکیلا مسلمان ہوں جو اعلان کے ساتھ اس نظریہ کے خلاف ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ آج کی دنیا ہمارے لیے مواقع (opportunities) کی دنیا ہے، نہ کہ دشمنی اور سازش کی دنیا۔ میری یہ بات موجودہ مسلمانوں کو اتنی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ وہ مجھ کو مسلم دشمن طاقتوں کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ اعوذ باللہ من ذالک۔
ایک صاحب نے کہا کہ تعلیم یافتہ طبقہ عام طور پر یہ سوال کرتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان جہادی مزاج رکھتے ہیں۔ وہ جہاد کے نام پر صرف لڑنا بھڑنا جانتے ہیں۔ پر امن جدوجہد جیسے اُن کے مزاجی خانہ میں فٹ نہیں ہوتی۔
میں نے کہا کہ غور کیجئے تو اس کا سبب نہایت گہرا ہے۔ اسلام کی تاریخ میں بعد کے زمانہ میں وہی ریورس کورس (reverse course) مطلوب تھا جو دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان نے اختیار کیا۔ مگر پچھلے ہزار سال میں مسلمانوں میں کوئی ایسا عالم پیدا نہ ہوسکا جو مسلمانوں کو ریورس کورس کا سبق دیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گاڑی ایک ہی رُخ پر دوڑتی رہی۔
میں نے کہا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں تقریباً ہزار سال تک پر امن جدوجہد ہی کا طریقہ رائج تھا۔ اس کے بعد مخالفین کی جارحیت کے نتیجہ میں ہجرت کے بعد جنگیں شروع ہوگئیں جو خلافت راشدہ کے زمانہ تک جاری رہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ خلافت راشدہ کے آخری زمانہ میں جارحانہ طاقتوں کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ کی دور والے پر امن طریق کا رکی طرف واپسی اختیار کی جائے۔ مگر سیاسی حوصلہ مندوں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے جنگ و قتال کا سلسلہ جاری رکھا جواب تک مختلف صورتوں میں جاری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues