Al-Risala · March 2003 · page

I can not afford to make a mistake.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

انگریزی بولنا شروع کر دیجیے۔ میں نے افریقہ کے ایک تاجر کی مثال دی۔ انہوں نے تجارتی ضرورت کے تحت انگریزی بولنا شروع کیا۔ ابتدا میں اُن کی انگریزی بہت غلط ہوتی تھی مگر بعد کو وہ صحیح انگریزی بولنے لگے۔ ابتدائی دور میں انہوں نے اس سلسلہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں غلط انگریزی بولتا ہوں تاکہ مجھے صحیح انگریزی بولنا آجاۓ:

I speak incorrect English, so that I may be able to speak correct English. میں نے کہا کہ انسان کو اللہ تعالی نے لامحدود صلاحیت دی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ منصوبہ بند اور منظم انداز میں اپنی صلاحیت کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جائے۔ اس سلسلہ میں میں نے مالیگاؤں کے مولانا انیس لقمان ندوی کی مثال دی۔ وہ ماشاء اللہ بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبان روانی کے ساتھ بولتے ہیں۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا۔ اُس کا راز یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے گھر کو تربیت گاہ بنا دیا۔ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ہمیشہ انگریزی میں بولتے تھے اور اپنے برادر نسبتی کے ساتھ ہمیشہ عربی میں۔ اس طرح انہوں نے خود اپنے گھر میں دونوں زبان میں بولنے کی عمدہ مشق پیدا کر لی۔ یہی طریقہ ہر نوجوان اپنے حالات کے اعتبار سے استعمال کر سکتا ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے ۱۰ دسمبر کی ملاقات کے موقع پر اپنی کچھ کتابیں تحفہ کے طور پر عطا کیں ۔ مثلاً خطبات بنگلور اور شمع فروزاں، وغیرہ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی برصغیر ہند کے ممتاز علماء میں سے ایک ہیں۔ اللہ نے اُنہیں عالم بھی بنایا ہے اور حکیم بھی۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے ملاقات کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ ہم کو حبیب بھائی کے مکان پر پہنچنا تھا۔ یہاں پہنچے تو رات کے گیارہ بجے کا وقت ہو چکا تھا۔ حبیب بھائی اور کچھ دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ یہاں دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اولمپک کے کھیلوں کے موقع پر کھلاڑیوں کی ایک ٹیم کے کیپٹن نے کہا کہ میں غلطی کا تحمل نہیں کر سکتا:

I can not afford to make a mistake.

یہ بات آخرت کے مسافر کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ اہم ہے۔ کھیل کے مقابلہ کا کیپٹن اگر

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page