What is the future of my mission
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
نے ان شماروں کی جلد بندی کروائی اور اُن کو المعهد میں بطور عطیہ دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے گھر کے مقابلہ میں یہ جلدیں المعهد کی لائبریری میں زیادہ محفوظ رہیں گی۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے اُن کی رہائش گاہ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ المعهد کے مقاصد نہایت اہم ہیں اور عین زمانہ کے مطابق ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ المعهد میں انگریزی زبان کو ذریعۂ تعلیم بنا دیں۔ یہاں عربی اور دینی علوم انگریزی زبان میں پڑھائے جائیں۔ طلبہ کو تاکید کی جائے کہ وہ المعهد کے احاطہ میں صرف انگریزی زبان بولیں۔ کوئی اور زبان بولنے کی صورت میں اُن پر جرمانہ عائد کیا جائے۔
میں نے کہا کہ المعهد کے موجودہ اساتذہ کو بظاہر یہ مشکل معلوم ہوگا۔ وہ سوچیں گے کہ ہم تو انگریزی زبان بہت کم جانتے ہیں۔ پھر ہم انگریزی زبان میں تعلیم کس طرح دیں۔ مگر میرے نزدیک اصل اہمیت زبان جاننے کی نہیں ہے بلکہ اپنے مقصد کے بارہ میں مجنونانہ جذبہ کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ سرسید احمد خاں انگریزی زبان نہیں جانتے تھے۔ مگر انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا انگریزی ادارہ قائم کیا۔ میں نے کہا کہ سرسید کا حال یہ تھا کہ انہوں نے ایک انگریز مستشرق کی انگریزی میں لکھی ہوئی سیرت کی کتاب کا جواب دیا تو پہلے اُس کا ترجمہ اردو زبان میں کروایا۔ اسی طرح ایک بار انہوں نے’’انگریزی‘‘ میں تقریر کی۔ یہ انگریزی تقریر اردو الفاظ میں کاغذ پر لکھ دی گئی تھی۔ پھر اس اُردو تحریر کی مدد سے انہوں نے اپنی انگریزی تقریر کی۔ میں نے کہا کہ آج ساری دنیا میں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو انگریزی زبان میں اسلام کی بات کہہ سکیں۔ میں نے کانفرنسوں میں دیکھا ہے کہ کچھ غیر عالم مسلمان انگریزی میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں مگر غیر عالم ہونے کی بنا پر اُن کی نمائندگی صحیح نہیں ہوتی۔ دوسرے مذہبوں میں ایسے علماء کثرت سے موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں میں ایسے علماء کی شدید کمی ہے جو انگریزی زبان میں درست طور پر اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ اگر المعهد اس ضرورت کو پورا کرے تو بلا شبہ یہ اُس کا ایک تاریخی کارنامہ ہوگا۔ المعهد کے کچھ طالب علموں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ آج ہی سے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues