I can not afford to make a mistake.
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
بارے سے زدہ انہیں یہ خواب ٹھیک اسی طرح دکھائی دیا۔ انہوں نے بابو بھائی سے کہا کہ اس قسم کا خواب مجھے بار بار دکھائی دیتا ہے۔ میں کیا کروں۔ بابو بھائی نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مولانا کے ساتھ مل کر دعوت کا کام کرو۔
حبیب بھائی نے اپنا یہ خواب بتایا تو میں نے اس پر غور کرنا شروع کیا۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس خواب میں حبیب بھائی کی حیثیت ملت مسلمہ کے نمائندہ کی ہے۔ یہ خواب گویا یا پوری ملت کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ تم دعوت اسلامی کا کام کرو ورنہ مسائل کا سانپ تم کو دوڑاتا رہے گا۔ وہ کبھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
میں یہ بات بار بار لکھ چکا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو مسائل پیش آرہے ہیں وہ سادہ طور پر صرف مسائل نہیں ہیں۔ وہ خدا کی تنبیہہ (warning) ہیں۔ یہ مسائل مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر یاد دلا رہے ہیں کہ تم اگر تباہی سے بچنا چاہتے ہو تو اپنی دعوتی ذمہ داری کو پورا کرو۔ یہ حقیقت میں نے قرآن سے اخذ کی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے، اہل ایمان کے لئے عصمت من الناس کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں ہے (المائدہ ۶۷)
موجودہ زمانہ کے مسلمان نہایت جوش و خروش کے ساتھ ”تحفظ ختم نبوت“ کی تحریک چلاتے ہیں۔ مگر اس قسم کی تحریکیں مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہیں۔ ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری تو خود اللہ نے لے رکھی ہے پھر مسلمان اس میں کیا رول ادا کر سکتے ہیں۔ اس قسم کی تحریک اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ شمس و قمر کے تحفظ کی تحریک چلانا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ذمہ داری ختم نبوت کا تحفظ نہیں ہے بلکہ ختم نبوت کی دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ ختم نبوت کے بعد وہ مقام نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کا وہ کام کریں جو پہلے پیغمبر کے ذریعہ انجام پاتا تھا: لیکون الرسول شہیدا علیکم و تکونوا شہداء علی الناس (الحج ۷۸)
قرآن اور حدیث اور سیرت کا میں نے جو گہرا مطالعہ کیا ہے اس کی بنیاد پر میں پورے یقین
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues