Al-Risala · March 2003 · page

I can not afford to make a mistake.

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳

کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ امت محمدی صرف نماز روزہ کی ادائیگی سے خدا کے یہاں بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ حتیٰ کہ خود ساختہ نظریات کے تحت موجودہ زمانہ میں اسلامی جہاد اور اسلامی سیاست کے جو ہنگامے مسلم دنیا میں جاری ہیں وہ بھی ہرگز اس کی نجات کا ضامن نہیں بن سکتے۔ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ اس کو مسلسل انجام دیں۔ دعوتی فرض کی انجام دہی کے بغیر مسلمانوں کا امت محمدی ہونا ہی مشتبہ ہے۔ اور جب اصل حیثیت ہی مشتبہ ہو تو انعامات کس بنیاد پر دیے جائیں گے۔

ایک گفتگو کے دوران ایک نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دہلی میں ایک صاحب اکثر ہمارے دفتر میں آتے ہیں۔ وہ دیکھتے تھے کہ گرمیوں کے موسم میں میں اے۔ سی استعمال نہیں کرتا۔ اب وہ سردی کے موسم میں ہمارے یہاں آئے تو انہوں نے دیکھا کہ میرے کمرے میں ہیٹر لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ تو اے۔ سی استعمال نہیں کرتے۔ پھر آپ ہیٹر کیوں استعمال کرتے ہیں۔ کیا یہ تضاد نہیں۔

میں نے کہا کہ میرے بھائی، آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق نہ کر سکے۔ اے۔ سی آرام کے لیے ہوتا ہے اور ہیٹر ایک ضرورت کی چیز ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ گرمی کا موسم مجھے بیمار نہیں کرتا۔ اے۔ سی لگانے سے جسمانی آرام تو ملتا ہے مگر اس کا تعلق بیماری سے نہیں۔ اس کے برعکس میرا بار بار کا تجربہ ہے کہ اگر مجھے سردی لگ جائے تو میں بیمار ہو جاتا ہوں۔ زکام، کھانسی، بخار کی وجہ سے ہفتوں کے لیے کام کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے سخت سردی میں میں ہیٹر کا استعمال کرتا ہوں۔ آپ آرام اور ضرورت میں فرق نہ کر سکے۔ اس لیے آپ کو یہ شبہہ لاحق ہوا۔ یہ حکمت (wisdom) کی بات ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا جانے۔ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے پڑھے لکھے لوگ عام طور پر اس حکمت سے بے بہرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ باتوں کو واضح انداز میں سمجھ نہیں پاتے۔ وہ خود بھی کنفیوژن میں مبتلا رہتے ہیں اور اپنے تحریر وتقریر کے ذریعہ دوسروں کو بھی کنفیوژن میں مبتلا کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues

Printed page