IN TIMES OF STRIFE, REMEMBER IQBAL
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
’دانشور یا ڈینٹلیکچول‘ ثابت کرنے کے لئے مولانا وحید الدین خاں صاحب پر تنقید کی جائے۔ یعنی اب مخالفت کی بنیاد ہی ختم ہوگئی اور ہر ایک نے اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان الرسالہ کی پالیسی سے اتفاق کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی فکر سے متاثر جملے اکثر سننے یا پڑھنے میں آرہے ہیں۔ جب ساری امت آپ کی پالیسی سے متفق ہوچکی ہے، پھر یہ بے بنیاد مخالفت کیوں۔ دسمبر کا الرسالہ پڑھ کر ایک وجہ جو میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہماری قوم اکابر پرستی کا شکار ہے اور آپ اکابر شکنی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ مولانا مودودی کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا وہ بالکل برحق ہے۔ آپ نے مولانا مودودی کی ذات پر کچھ نہیں لکھا۔ جو بھی تنقید کی وہ اُن کے معلوم افکار پر کی۔ جو کہ اسلام میں عین جائز بات ہے۔ لیکن یہ جائز چیز بھی ہمارے عوام ہی نہیں بلکہ خواص کی نظروں میں بھی ’شجر ممنوعہ‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کا دو ٹوک بات کرنے کا انداز کچھ لوگوں کو بہت گراں گزرتا ہے۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے: ”میرے نزدیک موجودہ زمانہ کی مسلم شخصیتوں میں سے کوئی بھی شخصیت (بشمول مولانا مودودی) ان شرائط پر پوری نہیں اترتی۔ اس لئے ان میں سے کوئی بھی مفکر کہے جانے کا مستحق نہیں۔ (الرسالہ، دسمبر ٢٠٠٢)۔ یہاں مجھے مرحوم محی الدین صدیقی ایم۔ اے یاد آتے ہیں۔ وہ جناح کے زبردست پرستار ہونے کے باوجود آپ کی کسی تنقید پر برانہیں مانتے تھے، بلکہ آپ کی تعریف کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے جناح کے ذاتی کردار کے قابل اعتراض پہلو پر کبھی نہیں لکھا، نہ ہی اُن کی شراب نوشی کا ذکر کیا، نہ ہی خنزیر خوری کا تذکرہ کیا۔ بہت پہلے کی بات ہے جب الرسالہ لوگوں میں اپنی پہچان بنا رہا تھا۔ ایک ملاقات میں مرحوم حامد الانصاری غازی نے آپ کے بارے میں کہا تھا: ”بہت خوب! مولانا بہت اچھے جارہے ہیں۔ ‘‘۔ (فاروق فیصل، بمبئی)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues