IN TIMES OF STRIFE, REMEMBER IQBAL
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۳
میرا یہ مضمون نئی دہلی کے مشہور انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کے انٹرنیٹ ایڈیشن میں موجود ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر پر ڈاؤن لوڈ کرکے ہندوستان ٹائمز کے شمارہ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ میں اُس کو دیکھ سکتا ہے۔ اس اخبار کا انٹرنیٹ نمبر یہ ہے: www.hindustantimes.com دو گھنٹہ کی پرواز کے بعد نو بجے میں دہلی پہنچ گیا۔ حیدر آباد میں موسم بالکل معتدل تھا جب کہ دہلی میں عین اُسی دن سردی کا موسم تھا۔ زمین کے اوپر موسم کا یہ فرق زمین کے مخصوص جھکاؤ (tilt) سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ جھکاؤ ایک انتہائی غیر معمولی اور استثنائی قسم کا شعوری واقعہ ہے اور شعوری واقعہ صاحب شعور کے وجود کا ایک زندہ ثبوت ہے۔
واپسی کے بعد مجھے ایک خط ملا۔ یہ خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:
” ۵ دسمبر ۲۰۰۲ کا روز نامہ انقلاب نظر سے گذرا اس میں ایک خط شائع ہوا تھا جس میں مکتوب نگار نے گجرات اسمبلی الیکشن اور الیکشن کمیشن کے متعلق ایک خط لکھا تھا جس کا ایک حصہ یہ ہے: ’اور اب ’بی جے پی‘ کو دنیا کی پروا بھی نہیں۔ تمام اخلاق و آداب اور آئین اور دستور کو بالائے طاق رکھ دئے گئے ہیں اور کھلم کھلا زہر افشانی کی جارہی ہے۔ اس دوران سابق جج حضرات کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی شائع ہوگئی مگر سنگھ پر یوار ہے کہ اس کے سامنے اس کی بھی کوئی وقعت نہیں، لیکن اس عُسر میں الیکشن کمیشن کی صورت میں یُسر نظر آرہا ہے کہ الیکشن پروپیگنڈے کے نام پر ’زہر افشانی ’لنگڈ وہ کی عقابی نگاہ سے بچ نہ سکے گی‘۔ یہ فکر آپ کی ہی دی ہوئی ہے اور اب ہماری اُمّت کا ہر لکھنے والا اور بولنے والا اسی طرح کی باتیں لکھنے اور بولنے لگا ہے۔ اسی اخبار میں ایک دوسری سُرخی ان الفاظ میں تھی ” ۶ دسمبر کو مشتعل نہ ہوں‘‘۔ اوّل روز سے آپ اسی صبر و اعراض اور مشتعل نہ ہونے کی تعلیم دے رہے ہیں۔ جس کو بعد از خرابیٔ بسیار قوم کا ہر دُانش ور اُمّت کو اختیار کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ یعنی اب پوری اُمّت الرسالہ کے نقطۂ نظر سے اتفاق کرنے لگی ہے۔ اب وہ حالت بھی نہیں جب بابری مسجد کے انہدام کے بعد بعض پڑھے لکھے لوگوں کی مجلس میں میں نے دیکھی تھی کہ اپنے آپ کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2003 All issues