Al-Risala · April 2003 · page 11

دعا عبادت ہے

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۱۱

دعا عبادت ہے

حدیث میں آیا ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے (الدعاء مخ العبادة) بلکہ دعا ہی اصل عبادت ہے (الدعاء هي العبادة) یہ بات قرآن وحدیث میں مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے۔ دعا کا اصل عبادت ہونا عین فطری ہے۔ کیوں کہ آدمی جب خدا کے وجود کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ یہ بھی دریافت کرتا ہے کہ خدا کے مقابلہ میں میں بالکل بے حقیقت ہوں۔ خدا آقا ہے، میں بندہ ہوں۔ خدا دینے والا ہے، میں پانے والا ہوں۔ خدا قادر ہے، میں عاجز اور محتاج ہوں۔ یہ احساس اس کو فوراً ہی خدا کے سامنے دعا گو بنا دیتا ہے۔ دعا وہ سب سے بڑا رشتہ ہے جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب سے مربوط ہوتا ہے۔ دعا خدا اور بندے کے درمیان اتصال کا ذریعہ ہے۔ انسان جو کچھ پاتا ہے، دعا سے پاتا ہے، اور تمام اعمال کا مقصد آدمی کو خدا سے دعا کرنے والا بنانا ہے تا کہ وہ خدا سے پانے والا بن جائے۔ مثال کے طور پر قرآن میں رمضان کے روزہ کا حکم دینے کے بعد یہ آیت آئی ہے: اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں (البقرہ ۱۸۶)

یہی بات حضرت مسیح نے ان لفظوں میں کہی : مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ کیوں کہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے، اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے، اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جاتا ہے۔

دعا صرف کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے، دعا ایک عمل ہے، بلکہ دعا سب سے بڑا عمل ہے۔ جس طرح حقیقی عمل کبھی بے نتیجہ نہیں رہتا اسی طرح حقیقی دعا کبھی بے نتیجہ نہیں رہتی۔ جب کوئی بندہ حقیقی دعا کرتا ہے تو وہ گویا اپنے معاملہ کو خدا کا معاملہ بنا دیتا ہے اور جب کوئی معاملہ خدا کا معاملہ بن جائے تو کوئی بھی نہیں جواس کو پورا ہونے سے روک سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page