Al-Risala · April 2003 · page 12

ایمان کی شاخیں

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۱۲

ایمان کی شاخیں

عن ابی ہریرة ، قال قال رسول الٰہ صلی الله عليه وسلم: الایمان بضع وسبعون شعبة. فافضلھا قول لا الله الا الله و ادناھا اماطة الاذى عن الطريق والحياء شعبة من الایمان (متفق علیہ)۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے اعلیٰ لا الہ الا اللہ کہنا ہے۔ اور اس کا ادنیٰ درجہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

اس حدیث کو کچھ لوگوں نے حسابی معنیٰ میں لے لیا اور گنتی کے لحاظ سے اس کی تشریح کرنے لگے۔ مثلاً ابو عبد اللہ حلیمی (م ۴۰۳ھ) جو بخارا میں شوافع کے امام تھے، انہوں نے المنهاج فی شعب الایمان کے نام سے ایک مفصل کتاب اس حدیث کی تشریح میں لکھی ہے۔ انہوں نے ایمان کے ۷۷ شعبہ شمار کئے ہیں اور اسی نسبت سے کتاب میں ۷۷ باب قائم کئے ہیں۔ اسی طرح حافظ ابو بکر البہیقی (م ۳۵۸ھ) کی کتاب اس موضوع پر بہت مشہور ہے جس کا نام الجامع المصنف فی شعب الایمان ہے ۔ حافظ ابن حجر نے قلبی اعمال ، لسانی اعمال اور بدنی اعمال کی تقسیم کر کے اس کی ۶۹ شاخیں شمار کی ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس حدیث کی شماریاتی تشریح درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ایک بڑے درخت کی شاخوں کی گنتی نہیں کی جاسکتی، اسی طرح ایمان کی شاخوں کی بھی کوئی گنتی نہیں۔ ایمان کا آغاز اللہ کی معرفت سے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان پر اللہ رب العالمین کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے تو گویا اس کی روحانی زمین میں ایک ربانی بیج بود یا جاتا ہے۔ یہ بیج بڑھتا ہے، وہ شاخیں نکالتا ہے۔ آدمی کی سوچ سے لے کر اس کے قول وفعل تک ہر چیز میں اس کا رنگ شامل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں ایمان کی شاخوں سے مراد ایمان کے مظاہر (manifestations) ہیں۔ ایمان جب کسی آدمی کے قلب و دماغ میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کی ہر ادا میں اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان گنت حد تک پہنچ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page