Al-Risala · April 2003 · page 13

ایمان کی شاخیں

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۱۳

خدا کا تجربہ صحیح مسلم میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے اس کا حصہ یہ ہے:

ان الله عز و جل يقول يوم القيمة يابن آدم مرضت فلم تعدنی قال یا رب كيف اعودك وانت رب العلمين قال ما علمت انّ عبدی فلانا مرض فلم تعده اما علمت انك لو عدته لوجدتنی عنده (صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والادب، باب فضل عيادة المريض ۱۲۶/۱۶) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہے گا اے ابن آدم، میں بیمار ہوا مگر تم نے میری عیادت نہ کی۔ بندہ کہے گا کہ اے میرے رب، میں کس طرح تیری عیادت کرتا جب کہ تو سارے عالم کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ کہے گا، کیا تم نے نہیں جانا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا مگر تم نے اس کی عیادت نہ کی۔ کیا تم نے نہیں جانا کہ تم اگر اس کی عیادت کرتے تو یقیناً تم مجھ کو اس کے پاس پاتے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی خالص رضائے الہی کے لئے ایک کام کرتا ہے تو کام کے درمیان اس پر ایسی کیفیات گزرتی ہیں جب کہ وہ لقاء رب کا تجربہ کرتا ہے۔ اس وقت اس کا یہ حال ہوتا ہے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔

مریض کی ایک عیادت وہ ہے جس میں رضام الہی کا جذبہ شامل نہ ہو۔ جس کو آدمی نمائش کے لئے یا کسی فائدہ کے لئے کرے ۔ ایسی عیادت صرف دنیوی مقصد کے لیے ہوتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہیں کرتی ۔ دوسری عیادت وہ ہے جب کہ خدا کا ایک بندہ کسی انسان کی بیماری کو سن کر تڑپ اٹھتا ہے۔ اس کو خدا کا یہ حکم یاد آتا ہے کہ تم دوسرے انسانوں پر رحم کرو میں قیامت کے دن تمہارے اوپر رحم کروں گا۔ وہ خالص رضائے الہی کے جذبہ کے تحت مریض کی طرف روانہ ہوتا ہے اور مریض کے حق میں دعائیں کرتا ہوا اس کے پاس پہنچتا ہے۔

بندۂ مومن خدا کا تجربہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور آخرت میں بھی۔ فرق یہ ہے کہ دنیا میں یہ تجربہ بالواسطہ انداز میں ہوتا ہے اور آخرت میں وہ زیادہ مکمل صورت میں براہ راست انداز میں ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page