طلبہ کے نام
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۱۷
طلبہ کے نام
صحیح ابن حبان میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت آئی ہے۔ اس میں مسلم عاقل کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ اس کو اپنے زمانہ سے باخبر ہونا چاہئے۔ (ان يكون بصيرا بزمانه)۔
یہ ایک بے حد اہم ہدایت ہے۔ آپ کو چاہئے کہ آپ صرف واقف دین نہ بنیں، بلکہ اسی کے ساتھ واقف زمانہ بھی بنیں ۔ اس کے بعد ہی آپ موجودہ زمانہ میں دین کی صحیح خدمت کر سکتے ہیں۔ واقف زمانہ بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی کمیونٹی کے خلاف ہونے والے ظلم اور سازش‘‘ کو جاننے والے بن جائیں ۔ یہ میرے نزدیک سطحیت ہے نہ کہ علم ۔ یہ ظواهر کو جاننا اور حقائق سے بے خبر رہنا ہے۔ اور علم بلا شبہ یہ ہے کہ آدمی اصل حقیقت کو جانے، نہ یہ کہ اس کی نگاہ ظاہری چیزوں پر اٹک کر رہ جائے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خلاف سازش اور ظلم میں مصروف ہیں، تب بھی اصل جاننے کی بات یہ ہے کہ وہ کیا اسباب ہیں جنہوں نے ان قوموں کو یہ حیثیت دے دی کہ وہ ہمارے خلاف کامیاب سازشیں کر سکیں ۔ وہ ہمارے خلاف اپنے ظالمانہ منصوبوں کی کامیاب تعمیل کریں اور ہمارے تمام اعاظم و اکابر اس کورو کنے میں مکمل طور پر عاجز ثابت ہوں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اصل کمی یہ ہے کہ وہ عصر حاضر سے ناواقف ہیں۔ وہ ماضی کو جانتے ہیں، مگر حال کی انہیں مطلق خبر نہیں۔ ان میں سے کوئی شخص اگر کچھ جانتا ہے تو وہ بھی کچھ ظاہری چیزوں کو جانتا ہے، نہ کہ گہرے معنوں میں حقیقی حالات کو۔
دینی مدرسوں کے طلبہ اگر صرف حیوان کا سب بن کر نہیں رہنا چاہتے، بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اسلام اور ملت اسلام کے احیاء میں مفید طور پر لگائیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ عصر حاضر کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ جانیں، وہ موجودہ زمانہ کی ان تبدیلیوں سے واقفیت حاصل کریں جنہوں نے ہمارے مروجہ طریقوں کو عملی اعتبار سے بالکل غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues