Al-Risala · April 2003 · page 18

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۱۸

کامیاب زندگی کا اصول

۲۶ جنوری ۲۰۰۳ کو میں دہلی سے احمد آباد گیا۔ راستہ میں انڈین ائیرلائنز کی فلائٹ میگزین Swagat کا شمارہ جنوری ۲۰۰۳ دیکھا۔ اس میں ایک مضمون کا عنوان یہ تھا خواب پورا ہوگیا: A Dream Comes True اس میں بتایا گیا تھا کہ ڈاکٹر ودیا ساگر تعلیم کے میدان میں خدمت کا جذبہ رکھتے تھے۔ ان کا شوق یہ تھا کہ نئی نسل کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ اس قابل بنائیں کہ وہ کامیاب زندگی گزار سکیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے راجستھان کے شہر الور میں ایک اسکول قائم کیا۔ اس اسکول کا نام ساگر اسکول ہے۔ مضمون نگار (Aditi Bishnoi) نے اسکول کی visit کی۔ ان سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ودیا ساگر نے کہا ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اچھے انسان بنائیں، جن میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ زندگی میں ہر صورت حال کا سامنا آسانی اور خود اعتمادی کے ساتھ کر سکیں: Our aim is to produce good human beings capable of tackling all situations in life with ease and confidence (p. 88)

میں سمجھتا ہوں کہ ایجوکیشن خواہ وہ فارمل ایجوکیشن ہو یا انفارمل ایجوکیشن، دونوں ہی کا سب سے اہم نشانہ یہی ہونا چاہئے۔ اسکول اور میڈیا دونوں کا کام یہ ہونا چاہئے کہ وہ لوگوں کے اندر وہ شعور پیدا کرے جس کے ذریعہ وہ زندگی کے مسائل کا سامنا کامیابی کے ساتھ کر سکیں۔

اس سلسلہ میں کلیدی بات یہ ہے کہ یہ دنیا لین دین کے اصول پر قائم ہے۔ جیسا دینا ویسا پانا۔ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے یقینی فارمولا یہ ہے کہ دوسروں کے ساتھ آپ وہی سلوک کریں جو آپ خود اپنے لئے چاہتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو کبھی کسی سے شکایت نہیں ہوگی۔ بزنس میں کہا جاتا ہے کہ کسٹمر فرینڈلی (customer friendly) بنو، تمہارا کاروبار ترقی کرے گا۔ جو اصول تجارت میں کامیابی کے لئے مفید ہے وہی پوری زندگی کے لئے مفید ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page