Al-Risala · April 2003 · page 20

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۰

سوال

عام طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اسلام نے جس طرح سود کو منسوخ کیا اسی طرح اسلام نے غلامی کو کیوں منسوخ نہیں کیا۔ انسان کو غلام بنانا اور انسان کی خرید و فروخت کرنا پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانہ میں جاری تھا۔ مگر قرآن وحدیث میں کوئی ایسا صریح حکم نہیں ملتا جس میں یہ اعلان کیا گیا ہو کہ انسان کو غلام بنانا جائز نہیں۔ خطبہ حجۃ الوداع میں، وقت کی دوسری سماجی برائیوں کی طرح، یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ آج سے غلامی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ (ساجد خاں، میرٹھ) جواب اس معاملہ میں سب سے پہلے یہ سمجھنا چاہئے کہ غلامی ہے۔ غلامی دراصل زرعی دور (agricultural period) کے ایک ناگزیر تقاضے کے طور پر پیدا ہوئی۔ زرعی دور میں زمین معاش کا واحد ذریعہ تھی، اور زمین صرف چند لوگوں کے پاس ہوا کرتی تھی۔ خرید و فروخت کی چیزیں بھی اُس زمانہ میں بہت کم تھیں۔ اس بنا پر سماج کے وہ لوگ جن کے پاس زمین نہ ہو، مجبور تھے کہ مزدوری کر کے اپنا رزق حاصل کریں۔ تاہم یہ بھی عملاً ناکافی تھا اس لیے اُس زمانہ میں محدود معاشی ذرائع کی تلافی اس طرح کی گئی کہ انسان بھی تجارت کا ایک مال بن گیا۔

جب یہ حالات پیدا ہو گئے تو غلامی کے ادارے کے خاتمہ کا اچانک اعلان مسئلہ کا حل نہ تھا، بلکہ ایسے اعلان کا مطلب یہ تھا کہ ایک نیا سماجی مسئلہ پیدا ہو جائے۔ اس قسم کے اعلان کا نتیجہ صرف یہ ہوتا کہ بہت سے لوگ بے روزگار ہو جاتے اور عملاً غلامی سے بھی زیادہ بدتر حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے۔

اس بنا پر اسلام نے غلامی کے خاتمہ کی ابتدا کرتے ہوئے اس برائی کے کلی خاتمہ کے لیے تدریج کا طریقہ اختیار کیا۔ اس تدریجی طریقہ میں دوسری باتوں کے علاوہ اہم ترین بات یہ تھی کہ اُس دور کو بدل دیا جائے جس میں غلامی جیسے مجبورانہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ معاملہ کے اس پہلو کو میں نے اپنی کتاب ’’اسلام دور جدید کا خالق‘‘ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page