کامیاب زندگی کا اصول
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۱
دورِ اول کے اسلامی انقلاب نے ایسے حالات پیدا کیے جو آخر کار صنعتی انقلاب کا سبب بنے۔ یعنی انسانی تاریخ زرعی دور سے نکل کر موجودہ صنعتی دور میں پہنچ گئی۔ صنعتی دور میں یہ ہوا کہ زمین پر مبنی معاشی ذرائع کی محدودیت ختم ہو گئی ۔ اب معاشی حصول کے ان گنت نئے ذرائع پیدا ہو گئے ۔ زرعی دور میں اگر معاش کا صرف ایک ذریعہ پایا جاتا تھا تو اب معاش کے لاکھوں نئے ذرائع پیدا ہو گئے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ خود حالات کے زور پر غلامی کا خاتمہ ہو گیا۔ اب ایک طرف تاجروں کو نئی نئی زیادہ نفع بخش چیزیں حاصل ہوگئیں جن کی تجارت کر کے وہ اور زیادہ بڑے منافع حاصل کر سکیں۔ دوسری طرف عام انسان کے لیے بھی اپنی معاش کمانے کے لیے اس کی ضرورت نہ رہی کہ وہ کسی زرعی آقا کی غلامی قبول کرے تا کہ وہ اپنی ضروری معاش حاصل کر سکے۔ بلکہ اُس کے سامنے ان گنت نئے ذرائع معاش کھل گئے جن میں محنت کر کے وہ اپنے لیے با عزت روٹی حاصل کر سکے۔ یہ بلاشبہ اسلامی انقلاب کے نتائج میں سے ایک نتیجہ تھا کہ دنیا سے زرعی دور کا خاتمہ ہوا اور صنعتی دور آیا۔ زرعی دور میں معاشی ذرائع بہت محدود تھے مگر صنعتی دور میں معاشی ذرائع غیر محدود حد تک بڑھ گئے ۔ اس تبدیلی کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ غلام بننے اور غلام بنانے کے حالات عملاً ختم ہو گئے ۔ یہاں تک کہ غلامی کے ادارہ نے اس تبدیلی کے بعد اپنا جواز کھو دیا۔ کہا جاتا ہے کہ غلامی کا خاتمہ انیسویں صدی کے آخر میں امریکہ کے قانون انسدادِ غلامی نے کیا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ امریکہ کے قانون نے غلامی کو ختم نہیں کیا، غلامی تو اپنے آپ ختم ہو چکی تھی ۔ اس قانون نے صرف یہ کیا کہ اُس نے ایک ختم شدہ واقعہ کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔
سوال
اقلیتی کمیشن کی طرف سے نئی دہلی میں جولائی ۲۰۰۲ میں ایک ہندو۔ مسلم سیمینار ہوا تھا۔ جس میں آپ بھی مسلمانوں کی جانب سے شریک ہوئے ۔ اس سلسلہ میں آپ کے بارے میں مسلم اُردو پریس میں کچھ عجیب باتیں شائع ہوئی ہیں۔ مثلاً دہلی کے ماہنامہ افکار ملی (اگست ۲۰۰۲) میں آپ کی نسبت سے یہ الفاظ چھپے ہیں: ”جن دو قابلِ ذکر شخصیات نے ان مذاکرات میں حصہ لیا ان میں سے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues