Al-Risala · April 2003 · page 24

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۴

جنرل ڈائر کے بقد ر بھی علمی اور ادبی ذوق ہوتا تو وہ ان عبارتوں کو دیکھ کر فورا ہی اُسے رد کر دیتے اور کہتے کہ یہ تو صاحب الرسالہ کی زبان ہی نہیں۔

سوال

ہمارے یہاں ایک صاحب پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ میں نے مولانا وحید الدین کو ٹی وی میں دیکھا۔ ایک شخص نے اُن سے ایک سوال کیا تو وہ ہنس پڑے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہنسنا ایک غیر سنجیدہ حرکت ہے۔ آپ ایک دینی مشن چلا رہے ہیں اور دینی مشن ایک سنجیدہ مشن ہوتا ہے، اس لحاظ سے ہنسنا آپ کے شایان شان نہیں۔ (ایک قاری الرسالہ، سہارنپور)

مجھے یاد نہیں کہ میں کب اور کس موقع پر کسی کے سوال پر ہنس پڑا تھا۔ تاہم اگر کسی اُلٹے سوال پر مجھے ہنسی آ گئی ہو تو یہ کوئی غلط یا نا جائز بات نہیں۔ خواہ مخواہ قہقہہ لگانا بلا شبہ ایک غیر سنجیدہ حرکت ہے اور اللہ کے فضل سے مجھے اس قسم کی عادت نہیں۔ البتہ بعض اوقات کوئی شخص ایسا غیر متعلق سوال کر سکتا ہے جس پر ایک سنجیدہ آدمی کو بھی ہنسی آ جائے۔

قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ ایک موقع پر حضرت سلیمان کو ہنسی آگئی۔ حضرت سلیمان کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: فتبسم ضاحكاً من قولها (النمل ۱۹) یعنی سلیمان اُس کی بات سے مسکرا کر ہنس پڑے۔ اسی طرح حدیث کی کتابوں میں بہت سے ایسے واقعات کا ذکر ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی بات پر ہنسی آگئی۔ مثلاً بخاری میں ایک صحابی کا واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ راوی بتاتے ہیں کہ صحابی کی بات سُن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے دانت ظاہر ہو گئے۔ فضحك النبى صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذہ(فتح (فتح الباری، جلد ۱۱، صفحه ۶۰۴) سوال اگست ۲۰۰۲ کا الرسالہ نظر سے گزرا۔ احادیث کو جب آپ عربی میں درج کرتے ہیں تو اس کا ترجمہ ضرور لکھئے۔ بعض اوقات اردو ترجمہ نہیں ہوتا تو اس کے مفہوم کو سمجھتے وقت دقت محسوس

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page