Al-Risala · April 2003 · page 23

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۳

نقطۂ نظر کو بار بار الرسالہ میں واضح کیا ہے۔ وہ یہ کہ اسلامی تعلیم کے مطابق، مسلمان کی حیثیت داعی کی ہے اور غیر مسلم کی حیثیت مدعو کی۔ اس رشتہ کا تقاضا ہے کہ مسلمان یک طرفہ صبر و تحمل کے ذریعہ دونوں گروہوں کے درمیان معتدل فضا قائم کریں تا کہ دعوت کا عمل موافق فضا میں جاری ہو سکے۔ یہ دعوتی اُصول قرآن میں واضح طور پر موجود ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں: ولنصبرن علی ما آذیتمونا (ابراہیم ۱۲) یعنی ہم ضرور صبر کریں گے تمہاری ایذاؤں پر۔ ۳۔ افکار ملی نے میری طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ’’یہ مسلمان ہی ہیں جو ملک میں انتشار اور بد امنی پیدا کرتے ہیں۔ ‘‘ یہ بات بلا شبہ خلاف واقعہ ہے۔ وہ لغویت کی حد تک بے بنیاد ہے۔ میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ میری زبان ہی نہیں۔ افکار ملی کے مضمون نگار کے اندر اگر ادبی شعور ہوتا تو وہ اس جملہ کی ساخت ہی کو دیکھ کر کہہ دیتے کہ یہ صاحب الرسالہ کی زبان ہی نہیں۔ اس طرح کی زبان میں وہ کبھی کلام نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ ماہنامہ نے اپنے دعویٰ کے ثبوت میں میرا کوئی اقتباس پیش نہیں کیا۔

یہاں ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے۔ ہندوستان میں برٹش حکومت کے زمانہ میں ایک بار وائسرائے کی مشاورتی کونسل میں ایک انگریزی خط پیش کیا گیا۔ اس خط کے لکھنے والے مشہور مسلم لیڈر محمد علی جوہر تھے۔ یہ خط امیرِ کابل کے نام لکھا گیا تھا۔ خط کے مضمون کے مطابق، محمد علی جوہر نے امیرِ کابل کو لکھا تھا کہ تم اپنی فوج کو لے کر ہندوستان پر حملہ کر دو، اندر سے ہم بغاوت کر دیں گے۔ اس دو طرفہ دباؤ کے نتیجہ میں انگریز ہندوستان کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ہندوستان آزاد ہو جائے گا۔ یہ خط وائسرائے ہند کی جس کونسل میں برائے غور پیش کیا گیا اُس کا ایک ممبر مشہور ’’ظالم‘‘ جنرل ڈائر تھا۔ جنرل ڈائر نے مذکورہ بظاہر غدارانہ خط کو پڑھا تو اس نے صرف اسلوب تحریر کی بنیاد پر یہ کہہ کر اُس کو رد کر دیا کہ یہ محمد علی کی زبان ہی نہیں۔

میرے مخالفین اکثر اس طرح کی باتیں میری طرف منسوب کرتے ہیں جو اپنے اسلوب کے اعتبار سے بالکل غیر معیاری ہوتی ہیں۔ میرا ایک معروف اسلوب تحریر ہے۔ ان مخالفین کے اندر اگر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page