کامیاب زندگی کا اصول
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۶
بے بنیاد الزام ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، محدثین نے حضرت معاویہ کی روایت کو قبول کیا ہے اور یہی ایک واقعہ ان کی دیانت اور ثقاہت کے لیے کافی ثبوت ہے۔ معاویہ اگر خدا نخواستہ خائن ہوتے تو محدثین ہر گز اُن کی روایت کو قبول نہ کرتے۔
جن لوگوں نے حضرت معاویہ پر خیانت کا الزام لگایا ہے، اُن کا الزام علمی اعتبار سے سراسر بے بنیاد ہے۔ مثلاً آپ کی ذکر کردہ کتاب میں لکھا گیا ہے کہ حضرت معاویہ سرکاری اموال کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اُس کا ایک ثبوت ایک تاریخی کتاب کے حوالہ سے یہ دیا گیا ہے کہ ایک بار جب کچھ سرکاری اموال آئے تو حضرت معاویہ نے اُس کے آدھے حصہ کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اُس کا آدھا حصہ خود اپنے لیے لے لیا۔ اس بیان کی بنیاد مذکورہ تاریخی کتاب کا یہ جملہ ہے: واخذ النصف لنفسه (اور آدھا اپنے لیے لے لیا)۔
مگر اس حوالہ کی بنیاد پر خیانت کا الزام درست نہیں۔ کیوں کہ تاریخ کی دوسری زیادہ معتبر کتاب میں اس واقعہ کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: وأخذ النصف لبيت المال (یعنی آدھا مال لوگوں میں تقسیم کیا اور آدھا مال بیت المال کے لیے لے لیا)۔ یہ دوسرا حوالہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے حوالہ میں لنفسه سے مراد بیت المال ہے۔ ایسی حالت میں یہ سراسر غیر علمی بات ہے کہ زیادہ صحیح حوالہ کو نظر انداز کر کے مشتبہ حوالہ کی بنیاد پر اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ رائے قائم کی جائے۔ ۔ سوال نئی دہلی کے اردو ماہنامہ زندگی نو (ستمبر ۲۰۰۲) کے شمارہ میں ایک امام صاحب کا خط چھپا ہے۔ یہ خط’’ رسائل ومسائل‘‘ کے عنوان کے تحت ہے۔ اس خط میں مکتوب نگار نے زندگی نو کے مدیر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے: آپ جماعت اسلامی کے آدمی ہیں۔ ’’ زندگی نو‘‘ جماعت کا آرگن ہے۔ مگر نہ جانے کیوں آپ نے فروری ۲۰۰۲ کے اشارات (زندگی نو) میں یہ لکھ دیا کہ’’ مگر ریاست اس کی بنیاد نہیں ہے‘‘ (صفحہ ۱۰، سطر : ۱۸)۔ سات الفاظ کا یہ مختصر سا جملہ جماعت کی پالیسی کے خلاف ہے اور یہ وہی بات ہوئی جو کہ جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب کہتے ہیں۔ (صفحہ ۷۲)
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues