Al-Risala · April 2003 · page 27

کامیاب زندگی کا اصول

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۲۷

مکتوب نگار کے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے زندگی نو کے مدیر نے لکھا ہے ۔ ریاست کے قیام کے بغیر احکام الہی کے نفاذ کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ لیکن ریاست کا قیام ، دین حق کی بنیاد کیسے بن سکتا ہے۔ دین حق کی بنیاد تو توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان ہے اور وہ تمام عبادات اور اخلاق فاضلہ ہیں جن کا قرآن میں ذکر ہے۔ اقامت دین کی جدوجہد، مومن کی زندگی کا مقصد ہے۔ قیام ریاست اس کا جزو ہے، لیکن بنیادی ہے۔ اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے (صفحہ ۷۲) زندگی نو کے مدیر کا یہ جواب اگر چہ اردو زبان میں ہے جو کہ میری مادری زبان ہے۔ اس کے باوجود یہ جواب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ چونکہ اس میں آپ کا نام بھی آگیا ہے اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس کی وضاحت فرمائیں۔ (ایس اے آفاق، نئی دہلی)

جواب

مذکورہ جواب بلاشبہ ایک مبہم جواب ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے اس جواب کو سمجھنا ممکن نہیں۔ آپ اس جواب کے الفاظ پر غور کیجئے۔ اس میں ریاست کے تصور کو بنیادی بھی بتایا گیا ہے اور اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریاست کی حیثیت دین میں بنیادی کیسے ہوسکتی ہے۔ اس جواب میں ایک طرف ریاست کے قیام کو جزئی کام کی حیثیت دی گئی ہے اور عین اُسی کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ لیکن وہ بنیادی ہے۔ یہ متضاد بیان کسی کے لیے بھی قابل فہم نہیں ہوسکتا۔ آخر وہ کلام کی کون سی قسم ہے جس کے مطابق ایک چیز بیک وقت جزئی بھی ہو اور عین اُسی وقت وہ بنیادی بھی ہو۔ اس شتر گر بہ کلام کا سبب یہ ہے کہ زندگی نو کے ایڈیٹر اپنی فکری غلطی کا کھلا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی نے دین کا جو تصور پیش کیا اُس میں ریاست کی حیثیت بنیادی تھی۔ یہ بات اُن کے پورے لٹریچر میں نمایاں ہے۔ مثلاً انہوں نے مبینہ طور پر اقامت دین کو حکومت الہیہ کے قیام کے ہم معنی بتایا۔ انہوں نے لکھا کہ: دین کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو زمانہ حال میں ’’اسٹیٹ‘‘ کے معنیٰ ہیں۔

بانی جماعت کی پیش کردہ دین کی یہ سیاسی تعبیر دلائل کے ذریعہ مکمل طور پر رد ہوچکی ہے۔ اب

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page