Al-Risala · April 2003 · page 46

Tolerance is maturity. Tolerance is the ability

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۴۶

۲۶ آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) کے ہندی شعبہ میں ۱۶ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک پینل ڈسکشن ہوا۔ اس میں دہلی کے پانچ اعلی تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اس کا موضوع تھا: ہندوستانی جمہوریہ کے سامنے چنوتیایاں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی چنوتی تعلیم میں پچھڑا پن ہے۔ تعلیم لوگوں کو باشعور بناتی ہے۔ مثلاً ہمارا سماج اسی بنا پر رائٹ کانشس ہو گیا ہے جب کہ اچھا سماج وہ ہے جس کے افراد ڈیوٹی کانشس ہوں۔ اسی کی وجہ سے ہمارے یہاں نعروں کی پولیٹکس عام ہو گئی ہے جب کہ ایشوز کی پالینکس ہونا چاہئے ۔ اسی لیے ہمارے سیاست داں صرف جیت کو جانتے ہیں۔ حالاں کہ جمہوریت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ لوگ ہار کو بھی ماننا جانتے ہوں۔

۲۷ تروینی کلا سبھاگار (منڈی ہاؤس) میں ۲۵ جنوری ۲۰۰۳ میں ایک پری سمواد ہوا۔ یہ سمواد پترکار دین دیال اپادھیائے کے نام پر کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس شرکت کی اور موضوع کے بارے میں مختصر اظہار خیال کیا۔

۲۸ سوسائٹی فاردی پروموشن آف ریشنل تھنکنگ (SPRAT) کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے احمد آباد کا سفر کیا۔ وہاں انہوں نے ۲۵ ۔ ۲۶ جنوری ۲۰۰۳ کے پروگرام میں حصہ لیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔

۲۹ امریکہ سے جناب لئیق احمد صاحب نے اطلاع دی ہے کہ انہوں نے الرسالہ مطبوعات کو پھیلانے کے دوسرے طریقوں کے علاوہ یہ کیا کہ ہندوستان کے ماہنامہ سائنس کو حل یہاں ہے اور فسادات کا مسئلہ پانچ سو کی تعداد میں فراہم کیا۔ اور ’’سائنس‘‘ نے ان کتابوں کو اپنے ماہانہ شمارے میں رکھ کر اپنے تمام خریداروں کو بھیج دیا۔ اس طرح یہ کتابیں بیک وقت بہت سے لوگوں تک پہنچ گئیں۔ اس کام میں امریکہ کے مزید جن لوگوں نے تعاون کیا اُن کے نام یہ ہیں : جناب شاہد صاحب، جناب احمد صاحب، جناب ساجد ضیاء صاحب، جناب خالد خاں، جناب لئیق محمد خاں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues

Printed page