Tolerance is maturity. Tolerance is the ability
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۳، صفحہ ۴۵
دیوتا سمجھتے ہیں۔ جب کہ حجر اسود صرف ایک پتھر ہے۔ وہ کوئی قابل پرستش چیز نہیں۔ جن لوگوں نے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ ظاہری شکل کے اعتبار سے اس میں کوئی مشابہت نہیں۔ ۲۲ سعودی عرب (ریاض) میں ہر سال المہرجان الوطنی کے نام سے بڑے پیمانہ پر تقاریر ہوتی ہیں۔ اس سال یہ تقریب ۸ جنوری ۲۰۰۳ کو شروع ہوئی اور ایک ہفتہ تک جاری رہی۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ وہاں اُن کو اظہار خیال کے لیے جو عنوان دیا گیا وہ تھا: ہذا ہوالاسلام۔ ۔ سفر کے انتظامات مکمل کر دیے گئے تھے مگر بعض وجوہ سے یہ سفر نہ ہوسکا۔ البتہ موضوع پر ایک پیپر اُنہیں بھیج دیا گیا۔
۲۳ مسٹر سلمان خورشید (سابق مرکزی منسٹر) کی صاحب زادی عائشہ (۱۷ سال) کا ۱۱ جنوری ۲۰۰۳ کو انتقال ہوگیا۔ دہلی پبلک اسکول (آر کے پورم) میں اس موقع پر بہت بڑا فنکشن ہوا۔ اُس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اُس میں شرکت کی اور زندگی اور موت کے موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک تقریر کی۔
۲۴ انجمن طلبۂ قدیم مدرسة الاصلاح کی طرف سے ۱۲ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک سمپوزیم ہوا۔ یہ سمپوزیم مولانا شبلی نعمانی اور مولانا حمید الدین فراہی کے نام پر تھا۔ اس کا انعقاد ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) کے کنونشن سینٹر میں کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں بحیثیت صدر شرکت کی اور موضوع پر ایک تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مولانا شبلی اور مولانا حمید الدین فراہی کے کارنامے بتائے۔ نیز یہ بتایا کہ مدرسہ کا تعلیمی نظام کتنا عام ہے اور وہ نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ ملک کی بہت بڑی خدمت انجام دے رہا ہے۔ ۲۵ نئی دہلی کے روز نامہ راشٹریہ سہارا (ہندی) کے نمائندہ مسٹر نیراج نے ۱۳ جنوری ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا موجودہ ملکی مسائل پر انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوتو کوئی welldefined نظریہ نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ملک کی اکثریت کی حمایت اُس کو حاصل نہ ہوسکی۔ اس لیے ہندوتو ابھی تک ملک میں کوئی حقیقی مسئلہ نہیں ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2003 All issues