احمد آباد کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
احمد آباد کا سفر
احمد آباد کے ادارہ سوسائٹی فاردی پروموشن آف ریشنل تھنکنگ (SPRAT) کی دعوت پر احمد آباد کا سفر ہوا۔ ۲۷۷۵ جنوری ۲۰۰۳ کو دہلی سے روانہ ہو کر احمد آباد پہنچا اور ۲ جنوری ۲۰۰۳ کو احمد آباد سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ یہ سفر ریاست گجرات کی نسبت سے ایک تاریخی موقع پر ہوا۔ اس سفر کی روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔
موجودہ زمانہ اجتماعات اور کانفرنسوں کا زمانہ ہے۔ میرے ساتھ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی تاریخ میں ایک سے زیادہ دعوت نامے موصول ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس کو لوں اور کس کو چھوڑوں۔ میرا عمومی رجحان یہ ہے کہ میں مشن کے پہلو کو ترجیح دیتا ہوں۔ احمد آباد کا پروگرام ۲۶ جنوری کو تھا اور ۲۶ جنوری ہی کو دہلی میں ایک خصوصی پروگرام تھا۔ انہی تاریخوں میں ایران کے صدر سید محمد خاتمی دہلی آئے۔ ۲۶ جنوری کی شام کو ایرانی سفارت خانہ کی طرف سے ایران کلچرل ہاؤس میں اُن کا ریسپشن تھا۔ سفیر ایران کی طرف سے مجھے یہ دعوت ملی کہ میں اس فنکشن میں شرکت کروں۔ مگر میں نے اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر احمد آباد کے سفر کو ترجیح دی۔ اسی طرح دو ہفتہ پہلے اسی قسم کا ایک مسئلہ سامنے آیا۔ انجمن طلبائے قدیم مدرسۃ الاصلاح کی طرف سے دہلی (ہمدرد یونیورسٹی) میں ایک تعلیمی سیمینار رکھا گیا۔ اس سیمینار کی تاریخ ۱۲ جنوری ۲۰۰۳ تھی۔ عین اُسی زمانہ میں مجھے سعودی عرب کے سفارت خانہ (نئی دہلی) کی طرف سے ایک خط مورخہ ۷ شوال ۱۴۲۳ ھ ملا۔ اس پر شیخ اُسامہ حسن جوہر (القائم بالأعمال) کا دستخط تھا۔ اس سلسلہ میں مجھے سعودی سفارت خانہ سے ٹیلی فون بھی موصول ہوا۔ اس میں مجھے دعوت دی گئی تھی کہ ریاض میں ہونے والے المهر جان الوطني للتراث والثقافة میں شرکت کروں جو کہ وہاں ۸ جنوری سے شروع ہو کر ایک ہفتہ تک جاری رہنے والا تھا۔ وہاں خطاب کے لیے مجھے یہ موضوع دیا گیا تھا: هذا هو الاسلام۔