Al-Risala · May 2003 · page 3

احمد آباد کا سفر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳، صفحہ ۳

اس موقع پر بھی میں نے یہی کیا کہ سعودی عرب کا سفر ترک کر کے انجمن طلبائے قدیم مدرسۃ الاصلاح کے سیمینار میں شرکت کی۔ مدرسۃ الاصلاح میری مادر علمی ہے۔ اس کے علاوہ اس سیمینار میں جو موضوع تھا وہ ہندوستان کے موجودہ حالات کے لحاظ سے بے حداہم تھا۔ چنانچہ میں نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اپنے خیالات پیش کیے۔

میرے تعارفی حلقہ میں حال میں دو موتیں واقع ہوئیں ۔ ۲۰ جنوری ۲۰۰۳ کو پروفیسر ضیاء الحسن ندوی کا دہلی میں انتقال ہو گیا۔ بوقت انتقال اُن کی عمر ۵۸ سال تھی۔ اس کے بعد ۲۳ جنوری ۲۰۰۳ کو ونگ کمانڈر یوسف خان صاحب کی اہلیہ کا انتقال ہوا۔ اُن کی عمر بھی ۵۲ سال تھی۔ ۲۴ جنوری کو ونگ کمانڈر یوسف خان صاحب کی رہائش گاہ (نئی دہلی) پر تعزیت کرنے والے لوگ جمع ہوئے۔ اس میں مسلمانوں کے علاوہ کچھ ہندو صاحبان بھی شامل تھے۔ میں نے موت کے بارہ میں اسلامی نقطہ نظر کو بیان کیا۔

میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: عجبت من قضاء الله للمؤمن ان امر المؤمن كله خير وليس ذالك الا للمؤمن ان اصابته سرّاء فشكر كان خيراً له وان اصابته ضرّاء فصبر كان خيراً له (مسند احمد ۶/ ۱۵) یعنی مومن کے بارہ میں اللہ کے فیصلہ پر مجھے تعجب ہے۔ مومن کے ہر معاملہ میں خیر ہے۔ اور یہ مومن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ اگر اُس کو خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور اگر اُس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے پھر وہ اس کے لیے خیر بن جاتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں موت پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ موت پر صبر کرنا خیر کیوں ہے۔ اس قسم کا صبر در اصل خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) پر راضی ہونا ہے۔ جب ایک شخص کا قریبی عزیز مر جائے اور وہ اُس کو خدا کا فیصلہ سمجھ کر اُس پر صبر کر لے تو اُس کی قیمت اُس کو یہ ملے گی کہ بعد کو اپنے عزیز کے ساتھ اُس کو زیادہ بہتر مکان میں اکٹھا کر دیا جائے۔ شرط یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خدا کے رجسٹر میں صابر کی حیثیت سے درج کروایا ہو۔

۲۵ جنوری ۲۰۰۳ کی شام کو مجھے احمد آباد پہنچنا تھا۔ اُسی دن سہ پہر کو دہلی میں ایک پروگرام تھا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page