از قضا آئینہ چینی شکست
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
تھے جنہوں نے مسلمانوں کو جذباتی طور پر ابھارا۔ انہیں غیر دانش مندانہ اقدامات کی طرف چلایا۔ اس سے قومی مزاج بگڑ گیا۔
یہی معاملہ اکثر دوسرے لیڈروں کے بھی ہے۔ مثلاً مہاتما گاندھی نے ہندوستانیوں کو تشدد سے روکا مگر اس کے ساتھ انہوں نے ’’سیاسی حقوق‘‘ کے نام پر جو تحریک اٹھائی اُس نے پوری قوم کو رائٹ کانشس (right conscious) بنا دیا، جب کہ صحیح یہ تھا کہ لوگوں کو ڈیوٹی کانشس (duty conscious) بنایا جائے۔ اسی طرح ساؤتھ افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے اگرچہ لوگوں کو تشدد سے روکا مگر اس کے ساتھ انہوں نے سفید فام لوگوں کے خلاف افریقی عوام کو بھڑکایا۔ اس غلط مزاج کا نتیجہ آزادی کے بعد یہ نکلا کہ ساؤتھ افریقہ میں سماجی جھگڑے بہت زیادہ بڑھ گئے جو اب تک جاری ہیں۔
ایک صاحب نے اقبال کے کچھ اشعار پڑھے اور کہا کہ ایک وقت تھا کہ مسلمان یہاں غالب حیثیت رکھتے تھے۔ اب مسلمان یہاں مغلوب بنے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ غالب حیثیت اور مغلوب حیثیت کی یہ تقسیم بذات خود غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کا مسلمان ہر جگہ پہلے کے مقابلہ میں ہر اعتبار سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ اُس وقت میں اُن کے گھر میں بیٹھا ہوا تھا۔ پختہ گھر، جدید فرنیچر، ٹیلی فون، گھر کے سامنے کار، وغیرہ۔
میں نے کہا کہ یہ زندگی جو آج آپ کو حاصل ہے وہ نام نہاد غالب دور میں کسی بھی مسلمان کو حاصل نہ تھی۔ اُس زمانہ میں کسی کے پاس نہ ایسا مکان تھا، نہ ایسا فرنیچر، نہ ایسی سواری اور نہ اس قسم کے پر راحت سامان۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کے لیے شکر کا موقع ہے، نہ کہ غم کا موقع۔ میں نے کہا کہ مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کی غلط رہنمائی کرکے غیر ضروری طور پر انہیں احساس پس ماندگی میں مبتلا کر دیا ہے۔
ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ ایک مغل شہزادی کا آئینہ اُس کی کنیز کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا۔ کنیز نے احساس ندامت کے ساتھ کہا: