Al-Risala · May 2003 · page

Be always positive

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

احمد آباد کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ میں نے اپنے تجربہ سے سمجھا ہے کہ مسلمانوں میں اعتراف کا مادہ نہیں۔ مسلمان خود غلطی کرکے حالات کو بگاڑتے ہیں اور پھر جب اُس کا برا نتیجہ سامنے آتا ہے تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنی غلطی کو مان لیں۔ میرے نزدیک غلطی پر پردہ ڈالنا غلطی پر ایک اور غلطی کا اضافہ ہے۔ غلطی کو مان لینا اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی دوبارہ وہ غلطی نہیں کرے گا۔ چونکہ مسلمان اپنی غلطی نہیں مانتے اس لیے وہ بار بار اُسی غلطی کو دہراتے رہتے ہیں۔ احمد آباد کی سڑکوں اور اُس کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ احمد آباد میں شہری ترقی زیادہ نہیں ہوئی۔ حالاں کہ احمد آباد ایک دولت مند شہر مانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں پولیٹکل لیڈر زیادہ منفی ذہن کے ہوئے، مثبت ذہن کا کوئی لیڈر یہاں نہیں اُھرا۔ جیسا کہ حیدر آباد میںچندرا بابو نائیڈو کی مثال میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر احمد آباد کے سیاسی لوگ اتنے بے شعور تھے کہ انہوں نے پچھلے فساد کے موقع پر یہاں کے بہت سے ہوٹل جلا دیے۔ جب کہ چندرا بابو نائیڈو نے ان لوگوں کو آندھرا پردیش میں بلا کر وہاں جگہ دی تا کہ وہاں ٹورزم کو ترقی ہو۔

احمد آباد میں کچھ مسلمانوں نے فساد کے حوالہ سے بربادی کی کہانی بیان کی اور کچھ لوگوں نے یہ بتایا کہ فساد کے بعد کافی نئی تعمیرات ہوئی ہیں۔ میں نے کہا کہ مشہور قصہ کے مطابق، میز پر شیشہ کا ایک گلاس رکھا ہوا تھا۔ اس میں آدھا گلاس پانی تھا۔ جب اُس کے بارے میں پوچھا گیا تو کسی نے کہا کہ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے اور کسی نے کہا کہ آدھا گلاس خالی ہے۔ یہی فرق مجھے مذکورہ لوگوں میں نظر آیا۔ مسلمانوں کی ایک مجلس میں میں نے کہا کہ قوموں کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم چیز قوموں کا مزاج ہوتا ہے۔ قومی مزاج اگر صبر اور احتیاط اور حقیقت پسندی اور اعتراف کا ہو تو ہر موقع پر خود بخود لوگ صحیح روش اختیار کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر جوش اور اشتعال اور لڑنے بھڑنے جیسا مزاج ہو تو ہر موقع پر اُن کی روش غلط ہو جاتی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ قومی مزاج قوم کے بڑے لوگ بناتے ہیں۔ بدقسمتی سے برصغیر ہند میں پچھلے دو سو سال کے درمیان جور ہنما اُٹھے وہ زیادہ تر ایسے لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page