خوب شد اسباب خود بینی شکست
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
ایک معتدل انسان بن جاتا ہے جو اس سے پہلے بظاہر دشمن نظر آتا تھا۔
یہی معاملہ دوسری قوموں کا بھی ہے۔ مثلاً امریکی حکومت پر امریکہ ہے، نہ کہ اینٹی مسلم۔ مگر اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان غیر ضروری طور پر دوسروں کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں اور پھر اس کی مہنگی قیمت ادا کرتے ہیں۔ حالاں کہ خود مسلمانوں کا یا اُن کی جماعتوں کا حال یہی ہے۔ ہر ایک پروخویش ہے، نہ کہ اینٹی غیر۔
۲۶ جنوری کی شام کو ایک صاحب میرے ہوٹل کے کمرہ میں آئے۔ یہ مسٹر وقار صدیقی (5358734 Tel) تھے۔ اُن کے ہاتھ میں ایک بڑا سا بیگ تھا۔ اس میں الرسالہ کے تمام شمارے، نمبر ایک سے لے کر اب تک کے موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ میری فکری غذا ہے۔ ایک بار مجھے لائبریری میں الرسالہ کا ایک شمارہ پڑھنے کو ملا۔ وہ مجھے اتنا زیادہ پسند آیا کہ میں نے الرسالہ کے تمام شمارے اکٹھا کیے اور اُن کی سال بہ سال جلد بندی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں الرسالہ کی ان جلدوں کو کسی باقاعدہ لائبریری میں دے دوں تاکہ وہ مستقل طور پر محفوظ رہیں ۔
۲۶ جنوری کی شام کو احمد آباد کے مہدی نواز جنگ ہال میں عمومی جلسہ تھا۔ اس میں احمد آباد کے تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے۔ ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے ایک مفصل تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اسلام میں مایوسی کو کفر بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام امید کا دین ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ عُسر میں بھی یُسر کو دیکھو۔ قرآن میں فطرت کا یہ قانون بتایا گیا ہے کہ کتنی ہی اقلیتیں کتنی ہی اکثریتوں پر غالب آتی ہیں، اللہ کی اذن سے۔ (البقرہ ۲۴۹) میں نے کہا کہ اس آیت میں فطرت کا ایک اہم قانون بتایا گیا ہے۔ یہ قانون جدید تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ جب کسی خطہ میں ایک گروہ اقلیت میں ہو اور دوسرا گروہ اکثریت میں تو خود فطرت کے قانون کے تحت ، ایسا ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان چیلنج اور مسابقت کی صورت حال پیش آتی ہے۔ اس صورت حال کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثریت دن بدن غیر تخلیقی