Al-Risala · May 2003 · page

خوب شد اسباب خود بینی شکست

الرسالہ، مئی ۲۰۰۳

اکثریت(un-creative majority) بننے لگتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اقلیت تخلیقی اقلیت (creative minority) بنتی چلی جاتی ہے۔ یہ عمل(process) جب اپنی تکمیل تک پہنچتا ہے تو وہ واقعہ ظہور میں آتا ہے جس کو مذکورہ قرآنی آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

اس تقریر میں میں نے جو باتیں کہیں اُن میں سے ایک یہ تھی کہ آپ دوسری قوم کے لوگوں کو کافر نہ کہیں، بلکہ انسان کہیں اور دل سے اُنہیں اپنے جیسا انسان سمجھیں ۔ اس طرح آپ کے اور دوسروں کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں گے جو آپ کے دین کے لیے بھی مفید ہوں گے اور دنیا کے لیے بھی۔

۲۶ جنوری کی شام کو احمد آباد میں میری تقریر ہورہی تھی۔ درمیان میں سامعین میں سے کسی صاحب کے موبائل ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ جوہر صاحب نے مائک پر آ کر کہا کہ یہاں اتنی سنجیدہ بات ہورہی ہے، آپ لوگ اپنے موبائل بند کر لیں۔ میں نے اپنی تقریر روک کر کہا کہ موبائل ٹیلی فون ایک مفید چیز ہے مگر جس کثرت سے اُس کا استعمال ہورہا ہے وہ ایک مصیبت ہے۔ کیوں کہ وہ ایک خلل اندازی(distraction) کے ہم معنی بن گیا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اعلیٰ حقیقتوں پر غور کرے تاکہ اُس کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل برابر جاری رہے۔ مگر موبائل ٹیلی فون اور اس طرح کی دوسری چیزیں ذہنی اور فکری ارتقاء میں ایک مستقل رکاوٹ بن گئی ہیں۔

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک ہیومنسٹ ہیں۔ اُن کا مذہب ہیومنیزم ہے۔ میں نے کہا کہ ہیومنیزم سادہ طور پر انسانیت کے معنی میں نہیں ہے ۔ وہ خدا رخی (God oriented) سوچ کا نام نہیں۔ وہ دراصل انسان رخی(man-oriented) سوچ کا نام ہے۔ کسی نے درست طور پر ہیومنزم کے بارے میں کہا ہے گاڈ سے انسان کی طرف سیٹ کا منتقل ہونا: transfer of seat from God to man میں نے کہا کہ ہیومنیزم کا یہ فلسفہ محض خیالی ہے۔ یہ خوبصورت لفظ کے سوا اور کچھ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں نہایت گہرائی کے ساتھ اپنے سے بڑے کا تصور موجود ہے۔ وہ فطری

‹ Previous page Next page › Contents of May 2003 All issues

Printed page