Symbiosis between Science & Spirit
الرسالہ، مئی ۲۰۰۳
ہے ۔ با جماعت نماز کا مقصد صرف اجتماعیت ہے۔ جس امام کے پیچھے بھی اجتماعیت کا یہ مقصد حاصل ہو جائے وہ درست قرار پائے گا۔ یہ بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: الصلاة المكتوبة واجبة خلف كل مسلم، برّا كان او فاجراً و ان عمل الكبائر (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب امامة البر والفاجر) یعنی فرض نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد اور خواہ اُس نے کبیرہ گناہ کیا ہو۔
یہاں اگر کوئی یہ نکتہ نکالے کہ حدیث میں فاجر یا مرتکب کبائر کا لفظ ہے، اُس میں مشرک کا لفظ نہیں تو یہ بھی اُسی غلو کی ایک صورت ہوگی جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ اس قسم کے غلو کرنے والوں پر فرض ہے کہ وہ چپ رہیں، نہ کہ اس قسم کے فتنہ انگیز الفاظ بول کر امت میں نزاع پیدا کریں۔ ۴۔ کس مصلی کی نماز ہوئی اور کس مصلی کی نماز نہیں ہوئی، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار تمام تر اللہ تعالیٰ کو ہے۔ جو لوگ کسی مصلی کی نماز پر ہونے یا نہ ہونے کا حکم لگائیں وہ اپنی حد سے تجاوز کرتے ہیں اور حد سے تجاوز کرنا بلاشبہ سخت گناہ ہے۔
۵۔ کلمہ پڑھنا صرف اسلام میں داخلہ کا اعلان ہے۔ کلمہ کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی شرک کے ارتکاب سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ فتنہ کی اس دنیا میں کوئی بھی شخص شرک میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ مصلح کا کام مشرک کی نشاندہی کرنا اور اُس پر حکم لگانا نہیں ہے بلکہ عمومی انداز میں شرک کا مسئلہ بتانا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ کو جب اصلاحی خطاب کرنا ہوتا تو آپ فرماتے: ما بال اقوام يفعلون كذا وكذا (لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا اور ایسا کرتے ہیں)۔ ۶۔ ایک شخص اگر شراب پیتا ہو تو مصلح کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اُس کے شرابی ہونے کا اعلان کرے اور اُس کو کوڑامارنے کا فتویٰ دے۔ مصلح کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کامل خیر خواہی کے ساتھ شرابی کو نصیحت کرے اور برابر نصیحت کرتا رہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بظاہر شرک میں مبتلا ہے تو مصلح کو چاہیے کہ وہ خیر خواہانہ انداز میں اُس کو سمجھائے۔ مصلح کو اس کا حق نہیں کہ وہ برسر عام تعین کے ساتھ کسی کے مشرک ہونے کا اعلان کرے اور اُس کے خلاف فتویٰ جاری کرے۔ یہ سب دینی اصطلاح میں غلو